رام اللہ (ایجنسیاں) اسرائیلی قید میں موجود ممتاز فلسطینی رہنما مروان برغوثی کے بیٹے عرب برغوثی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے سے پیدا ہونے والے موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اسرائیل پر دباؤ ڈالیں کہ ان کے والد کو رہا کیا جائے۔ عرب برغوثی کے مطابق، ان کے والد واحد شخصیت ہیں جو فلسطینی قوم کو متحد کر سکتی ہیں اور ایک منصفانہ سیاسی حل کی راہ ہموار کر سکتی ہیں۔
66 سالہ مروان برغوثی، جنہیں ان کے حامی "فلسطین کا نیلسن منڈیلا” قرار دیتے ہیں، فلسطینی تحریک کے صفِ اول کے رہنماؤں میں شمار کیے جاتے ہیں۔ وہ دوسری فلسطینی انتفاضہ (2000–2005) کے مرکزی معماروں میں سے تھے، اور انہیں مستقبل میں صدر محمود عباس کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
اسرائیل کی ایک عدالت نے جون 2004 میں مروان برغوثی کو اسرائیلی شہریوں کے خلاف چار حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں پانچ بار عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ ان حملوں میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
رام اللہ میں ایجنسی فرانس پریس (AFP) سے گفتگو کرتے ہوئے عرب برغوثی نے کہا کہ "میرے والد کا ٹریک ریکارڈ ثابت شدہ ہے۔ وہ وہی شخصیت ہیں جو فلسطینیوں کو متحد کر سکتی ہیں اور دو ریاستی حل کو حقیقت میں بدلنے میں مدد دے سکتی ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ برغوثی کی رہائی بین الاقوامی برادری کے لیے ایک موقع ہوگی کہ وہ فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت میں اپنی سنجیدگی ثابت کرے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فرانس اور برطانیہ سمیت کئی ممالک نے حال ہی میں فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔
عرب برغوثی اس ہفتے کے دوران دوسرے خاندانی رکن ہیں جنہوں نے ٹرمپ سے براہ راست اپیل کی ہے۔ اس سے قبل ان کی والدہ فدوی برغوثی نے بھی امریکی صدر سے اپنے شوہر کی رہائی کے لیے مداخلت کا مطالبہ کیا تھا۔
ٹرمپ نے 15 اکتوبر کو ٹائم میگزین کے ایک انٹرویو میں تصدیق کی تھی کہ وہ مروان برغوثی کی رہائی سے متعلق فیصلہ کریں گے، تاہم انہوں نے اس فیصلے کی تاریخ یا نوعیت کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی
