اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے نگران ادارے آئی اے ای اے (International Atomic Energy Agency) کے سربراہ رافیل گروسی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران نے جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے بعد بھی یورینیئم افزودگی کا عمل دوبارہ شروع کر دیا ہے، جو ایک “تجدید کردہ اور تشویش ناک کوشش” کے مترادف ہے۔
نیویارک ٹائمز کو اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں گروسی نے کہا کہ اگرچہ معائنہ کاروں کو تاحال ایرانی جوہری تنصیبات تک براہِ راست رسائی حاصل نہیں ہوئی، تاہم دستیاب شواہد اور سیٹلائٹ مشاہدات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران اپنی 60 فیصد افزودگی کی سطح پر کام جاری رکھے ہوئے ہے۔
رافیل گروسی نے واضح کیا کہ ان کے ادارے کے ماہرین نے چند ایسی نقل و حرکت نوٹ کی ہیں جو ممکنہ طور پر ایرانی افزودہ یورینیئم کے ذخیرے سے منسلک مقامات پر ہو رہی ہیں۔ تاہم ان علاقوں تک آئی اے ای اے کو “مؤثر رسائی” حاصل نہیں، جس کے باعث ادارہ اپنی معلومات سیٹلائٹ مشاہدات اور غیرمستقیم ڈیٹا پر انحصار کر رہا ہے۔ گروسی نے اس صورتحال کو “انتہائی نازک” قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر یہ عمل اسی رفتار سے جاری رہا تو یہ علاقائی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ادارہ ایران سے مسلسل رابطے میں ہے تاکہ اسے قائل کیا جا سکے کہ وہ افزودگی کی موجودہ سطح سے پیچھے ہٹے اور اپنے جوہری مواد کو کسی “اور مقصد” کے لیے استعمال نہ کرے۔ گروسی کے بقول، “ہم چاہتے ہیں کہ ایران شفافیت اختیار کرے، تاکہ دنیا کو اطمینان ہو کہ اس کا افزودہ یورینیئم کسی عسکری پروگرام کا حصہ نہیں بن رہا۔”
ماہرین کے مطابق ایران کے پاس موجود یورینیئم کی مقدار اتنی ہے کہ اگر اسے ہتھیاروں کے معیار تک افزودہ کیا جائے تو وہ دس جوہری بم تیار کرنے کے لیے کافی ہو سکتی ہے۔ تاہم ایران مسلسل اس بات سے انکار کرتا آ رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ان کا جوہری پروگرام “پرامن توانائی کے حصول” اور “سائنسی ترقی” کے لیے ہے، نہ کہ فوجی مقاصد کے لیے۔
گزشتہ ماہ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان ایک نیا معاہدہ طے پایا تھا، جس میں مصر نے ثالث کا کردار ادا کیا۔ معاہدے کے تحت ایران نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بین الاقوامی معائنہ کاروں کو اپنی تنصیبات کے دورے کی اجازت دے گا اور تعاون بحال کرے گا۔ تاہم رافیل گروسی کے مطابق، ابھی تک اس معاہدے پر عملی پیش رفت نہیں ہو سکی، اور نہ ہی ایران نے کوئی واضح شیڈول فراہم کیا ہے۔
یہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب جون میں اسرائیل نے ایران پر فضائی حملہ کیا، جس کے نتیجے میں ایران نے بین الاقوامی ایٹمی واچ ڈاگ سے تعاون معطل کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے ایران کی کئی جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچا، اور معائنہ کاروں کے لیے رسائی ناممکن بن گئی۔ گروسی نے کہا کہ یہ صورتحال نہ صرف جوہری تحفظ کے لیے بلکہ خطے کے امن کے لیے بھی ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔
عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان پیدا ہونے والی یہ نئی خلیج مشرقِ وسطیٰ میں جوہری عدم استحکام کو مزید گہرا کر سکتی ہے۔ مغربی ممالک پہلے ہی ایران سے 60 فیصد افزودگی کو کم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں، کیونکہ جوہری ہتھیار کے لیے درکار افزودگی کی سطح 90 فیصد ہے، جو اب ایران کی پہنچ سے زیادہ دور نہیں رہی۔
