تہران:ایران نےامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جوہری ہتھیاروں کے تجربات دوبارہ شروع کرنے کے اعلان کوسختی سےمسترد کرتے ہوئےاسےغیرذمہ دارانہ اور رجعت پسندانہ قراردیا ہے۔ ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقیچی نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر کہا کہ ایک جوہری طاقتور ملک جو اپنے دفاعی محکمے کو جنگ کا محکمہ کہتا ہے، اب ایٹمی تجربات دوبارہ شروع کر رہا ہے۔

عراقیچی نے مزید کہا کہ یہ وہی ملک ہے جو ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کو شیطانی رنگ دے کر ایران کی محفوظ جوہری تنصیبات پر حملے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔ ٹرمپ نے یہ اعلان جنوبی کوریا میں ایشیا پیسیفک اقتصادی تعاون (APEC) سمٹ کے موقع پر چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے قبل کیا، اور کہا کہ امریکا روس اور چین کے مساوی سطح پر جوہری تجربات کرے گا۔
ماہرین کے مطابق، امریکی صدر کا یہ فیصلہ بنیادی طور پر روس اور چین کی حالیہ جوہری سرگرمیوں کے ردعمل کے طور پر سامنے آیا ہے۔ یاد رہے کہ 1996 کے جامع جوہری تجربات پر پابندی معاہدے (CTBT) کے تحت دنیا بھر میں جوہری تجربات پر پابندی عائد ہے، تاہم امریکا، چین اور ایران نے ابھی تک اس معاہدے کی توثیق نہیں کی۔
ایران نے ایک بار پھر وضاحت کی کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پُرامن مقاصد کے لیے ہے اور اس نے کبھی کوئی جوہری تجربہ نہیں کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے اقدام سے عالمی جوہری کشیدگی میں اضافہ اور خطے میں تناؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
