امریکا اور شام کے درمیان سفارتی تعلقات میں نئی پیش رفت متوقع ہے۔ امریکا کے شام کے لیے خصوصی ایلچی ٹام براک نے انکشاف کیا ہے کہ شامی صدر احمد الشرع جلد واشنگٹن کا دورہ کریں گے، جہاں ان کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اعلیٰ حکام سے اہم ملاقاتیں متوقع ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے "ایکسیوس” کے مطابق، امریکا کا ہدف سال کے اختتام سے پہلے اسرائیل اور شام کے درمیان ایک جامع سکیورٹی معاہدہ طے کرنا ہے، جس کے لیے احمد الشرع کے دورے کو فیصلہ کن موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے تحت خطے میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے نئی حکمت عملی ترتیب دی جائے گی۔
ٹام براک نے بحرین میں منعقدہ مناما ڈائیلاگ کے موقع پر صحافیوں کو بتایا کہ امریکا کو امید ہے کہ اس دورے کے دوران شام داعش کے خلاف امریکی قیادت والے اتحاد میں باقاعدہ طور پر شامل ہو جائے گا۔ یاد رہے کہ شام 2014 میں بننے والے اس اتحاد کا حصہ نہیں تھا، جس نے عراق اور شام کے وسیع علاقوں کو داعش سے آزاد کرایا تھا۔
داعش نے 2014 سے 2017 کے دوران شام اور عراق کے تقریباً ایک تہائی علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا، جہاں اس نے اپنے سخت گیر شرعی قوانین نافذ کیے۔ تاہم 2019 تک اتحادی افواج نے داعش کو اس کے آخری مضبوط گڑھوں سے بے دخل کر دیا۔ اب اطلاعات کے مطابق تنظیم ایک بار پھر شام اور عراق میں از سرِ نو منظم ہونے کی کوشش کر رہی ہے۔
یاد رہے کہ مئی 2025 میں امریکی صدر ٹرمپ نے ریاض میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی موجودگی میں صدر احمد الشرع سے ملاقات کی تھی۔ یہ ملاقات گزشتہ 25 سال میں امریکا اور شام کے رہنماؤں کے درمیان پہلا براہِ راست رابطہ تھا۔ اس موقع پر ٹرمپ نے شام پر عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کے عزم کا اظہار کیا تاکہ جنگ زدہ ملک کو تعمیرِ نو کا موقع فراہم کیا جا سکے۔
بعد ازاں، ستمبر میں جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے دوران احمد الشرع نے نیویارک میں صدر ٹرمپ اور خاتونِ اول میلانیا ٹرمپ سے بھی ملاقات کی۔ اس ملاقات میں امریکی صدر نے شام کی نئی حکومت کی حمایت اور علاقائی امن کے لیے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔
واضح رہے کہ دسمبر 2024 میں بشارالاسد حکومت کے خاتمے کے بعد احمد الشرع نے صدارت سنبھالی تھی۔ ان کی قیادت میں شام نے داخلی استحکام، علاقائی رابطے اور عالمی شراکت داری کے لیے نئی پالیسی اپنائی۔ اسی تسلسل میں صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے شام پر عائد بیشتر امریکی پابندیاں ختم کر دیں۔
تاہم سیزر سیریا سیویلین پروٹیکشن ایکٹ کے تحت کچھ سخت پابندیاں تاحال برقرار ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے جمعے کے روز کہا کہ واشنگٹن کانگریس پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ نیشنل ڈیفنس آتھرائزیشن ایکٹ کے ذریعے ان پابندیوں کو بھی ہٹانے کی اجازت دے، تاکہ شام کو امن، سرمایہ کاری اور معاشی بحالی کا موقع دیا جا سکے۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا خطے کے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے اور شام میں ایسی کسی بھی سرمایہ کاری یا تعاون کا خیر مقدم کرے گا جو تمام شامیوں کے لیے خوشحالی اور پائیدار امن کا سبب بنے۔
