استنبول میں غزہ سے متعلق وزارتی اجلاس کے بعد ترکیہ کے وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے کہا کہ اسرائیل کو جنگ بندی کی خلاف ورزی روکنی چاہیے اور انسانی امداد کی فراہمی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔
انہوں نے بتایا کہ حماس نے غزہ کی پٹی کی حکومت ایک فلسطینی کمیٹی کے حوالے کرنے کی آمادگی ظاہر کی ہے، تاہم جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد میں ابھی کچھ مسائل باقی ہیں اور اسرائیل بار بار اس کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
اجلاس میں ترکیہ، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، اردن، انڈونیشیا اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے عالمی امن فورس میں اپنے فوجی بھیجنے کے اصولوں پر اتفاق کیا اور اقوامِ متحدہ کی نگرانی میں اس فورس کی تعیناتی کے لیے بات چیت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔ فیدان نے مزید کہا کہ انقرہ امن کے قیام کے لیے جو بھی ضروری ہوگا کرنے کے لیے تیار ہے، لیکن پہلے ایک قابل قبول فریم ورک کی ضرورت ہے۔
انہوں نے فلسطینی خود انتظامیہ کے قیام کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کا انتظام خود فلسطینیوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے۔ یاد رہے کہ اسرائیل نے امریکی منصوبے میں شامل بین الاقوامی فورس میں ترکیہ کی شرکت کو مسترد کر دیا تھا، اور متعدد ممالک نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر اپنی فوجی شرکت کو قانونی حیثیت دینے پر زور دیا ہے۔
یہ اجلاس اس وقت ہوا جب مصر اور دیگر ممالک غزہ کے لیے عبوری سکیورٹی فورس کے قیام کی کوششیں تیز کر رہے ہیں، اور جنگ بندی کا معاہدہ 10 اکتوبر کو نافذ ہوا تھا، جس کے تحت حماس نے اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور ہلاک شدگان کی واپسی پر آمادگی ظاہر کی تھی، جبکہ اسرائیلی فوج کو پہلے سے طے شدہ علاقوں تک پیچھے ہٹنا تھا۔
