اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک تاریخی موڑ پر شام کے صدر احمد الشرع اور وزیر داخلہ انس حسن خطاب پر عائد تمام بین الاقوامی پابندیاں ختم کرنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف شام کی نئی قیادت کے لیے ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے بلکہ اسے بشارالاسد کے بعد وجود میں آنے والے سیاسی نظام کی بین الاقوامی سطح پر عملی تسلیمیت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
یہ قرارداد، جس کا نمبر 2729 ہے، امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی تھی اور اسے سلامتی کونسل کے 15 میں سے 14 اراکین کی حمایت حاصل ہوئی، جب کہ چین نے اس عمل میں حصہ نہیں لیا۔ اس قرارداد کے ذریعے ان دونوں شامی رہنماؤں کو داعش اور القاعدہ کی پابندیوں کی فہرست سے بھی خارج کر دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ان کے اثاثے غیرمنجمد کر دیے گئے ہیں اور سفری پابندیاں بھی ختم ہو گئی ہیں۔
امریکہ کے مستقل مندوب مائیک والٹز نے اس اقدام کو شام کے مستقبل کے لیے نئی امید قرار دیتے ہوئے کہا کہ صدر احمد الشرع کی قیادت میں ایک نئی شامی حکومت نے دہشت گردی اور منشیات کے خلاف مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ یہ حکومت کیمیائی ہتھیاروں کے خاتمے، علاقائی سلامتی کے فروغ اور اقتصادی بحالی کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ فیصلہ ملک کی طویل المدتی تعمیرِ نو، استحکام اور اقتصادی ترقی کے فروغ کے لیے بین الاقوامی برادری کی کوششوں سے مطابقت رکھتا ہے۔ ساتھ ہی یہ یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ انسدادِ دہشت گردی کے عالمی فریم ورک کی سالمیت متاثر نہیں ہوگی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ احمد الشرع نے حال ہی میں برازیل کے شہر بیلم میں ہونے والی موسمیاتی تبدیلی کانفرنس کاپ 30 میں شرکت کی، جہاں انہیں عالمی رہنماؤں کی جانب سے بھرپور پذیرائی ملی۔ اب وہ پیر کو واشنگٹن روانہ ہوں گے، جہاں ان کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات متوقع ہےایک ایسا لمحہ جو شام اور امریکہ کے درمیان تعلقات کی نئی راہیں کھول سکتا ہے۔
واضح رہے کہ احمد الشرع پر پہلی بار 2014 میں اقوام متحدہ نے پابندیاں عائد کی تھیں، جب وہ القاعدہ سے وابستہ تنظیم ہیئت تحریر الشام کے قریب سمجھے جاتے تھے۔ تاہم نئی حکومت کے قیام کے بعد ان کی پالیسیوں میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے، جس کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے انہیں عالمی سطح پر تعاون کے قابل سمجھا۔
یہ فیصلہ شام کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہو سکتا ہے، جو برسوں کی خانہ جنگی، پابندیوں اور سیاسی تنہائی کے بعد اب عالمی برادری کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کی راہ پر گامزن ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر یہ عمل شفاف اور پائیدار ثابت ہوا تو مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کی نئی لہرپیدا ہوسکتی ہے۔
