نیویارک: اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب ابراہیم علی نے سعودی عرب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام کے مؤقف کی حمایت نے سلامتی کونسل کے حالیہ فیصلے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نےگزشتہ روز شامی صدر احمد الشرع اور وزیر داخلہ انس خطاب کے نام پابندیوں کی فہرست سے ہٹانے کی قرارداد منظور کی۔
مندوب ابراہیم علی نے العربیہ اور الحدث سے گفتگو میں کہا کہ صدر احمد الشرع کا نام دہشت گردی کی فہرست سے ہٹایا جانا شامی ریاستی کوششوں کی ایک بڑی کامیابی اور ایک اہم سنگِ میل ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اور عالمی برادری اب شام کے ساتھ تعلقات کی بحالی میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ صدر الشرع کا متوقع امریکہ کا دورہ "تاریخی پیش رفت” ہوگا، جو دونوں ممالک کے درمیان طویل عرصے سے جمود کا شکار تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گا۔
ابراہیم علی نے امید ظاہر کی کہ داعش کے خلاف بین الاقوامی اتحاد میں شام کی ممکنہ شمولیت کے بعد امریکی پابندیوں کی باقیات بھی ختم کر دی جائیں گی۔ ان کے بقول، دمشق حکومت ملک میں استحکام اور تعمیر نو کے لیے بین الاقوامی سطح پر مسلسل کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔
سلامتی کونسل نے جمعرات کو قرارداد 2729 کے حق میں 14 ووٹوں سے منظوری دی، جبکہ چین نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔ اس قرارداد کے تحت شامی صدر اور وزیر داخلہ کے اثاثے غیر منجمد کر دیے گئے ہیں اور سفری پابندیاں ختم کر دی گئی ہیں۔
یہ اقدام دراصل امریکی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی توسیع ہے۔ یاد رہے کہ مئی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام پر عائد اقتصادی پابندیوں کو مرحلہ وار ختم کرنے کا عندیہ دیا تھا، جسے واشنگٹن کی سفارتی حکمتِ عملی میں ایک بڑا موڑ قرار دیا گیا تھا۔
بین الاقوامی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی خاموش مگر مؤثر سفارتی حمایت نے اس تبدیلی میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ ان کے مطابق، ریاض اور دمشق کے تعلقات میں گرمجوشی نہ صرف شام کی علاقائی واپسی بلکہ عالمی سطح پر سیاسی بحالی کے لیے بھی سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے۔
