میامی/واشنگٹن: امریکی صدر کے خصوصی ایلچی برائے مشرقِ وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے انکشاف کیا ہے کہ حماس کے بعض عہدے داروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر جیرڈ کشنر اور اُنھیں بتایا کہ تنظیم اپنے ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار ہے۔ یہ ملاقات 9 اکتوبر کو جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط سے چند گھنٹے قبل ہوئی تھی۔
وٹکوف نے میامی میں امریکی بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر حماس اپنے وعدے پر قائم رہتی ہے تو امریکہ کی جانب سے غزہ کے لیے تیار کردہ ترقیاتی منصوبہ حقیقی معنوں میں غیر معمولی ثابت ہو سکتا ہے، جس میں روزگار کے وسیع مواقع بھی شامل ہوں گے۔
امریکی ایلچی نے واضح کیا کہ واشنگٹن ایک ایسا پروگرام تشکیل دے رہا ہے جس میں ہتھیار چھوڑنا اور عام معافی دونوں شامل ہوں گے۔ اُن کے مطابق، حماس نے عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنے ہتھیار بین الاقوامی سیکیورٹی فورس کے حوالے کرے گی، جس کی تشکیل آئندہ تین ہفتوں میں ممکن ہے۔
وٹکوف نے مزید بتایا کہ امریکہ اسرائیل پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ رفح کے زیرِ زمین سرنگوں میں موجود حماس کے 100 سے 200 جنگجوؤں کو محفوظ راستہ فراہم کرے، بشرطِ یہ کہ وہ اپنے ہتھیار جمع کرائیں۔ امریکی ایلچی کے مطابق، یہ اقدام جنگ بندی کے تحت اسرائیلی کنٹرول والے علاقے میں موجود جنگجوؤں کے لیے ایک “ماڈل پروگرام” ثابت ہو سکتا ہے، جو مستقبل میں بڑے پیمانے پر ہتھیار چھوڑنے کے منصوبے کی بنیاد بنے گا۔
اس دوران، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے حماس کے جنگجوؤں کو محفوظ راستہ دینے کی تجویز کی مخالفت کی تھی، تاہم ایک مشرقِ وسطیٰ کے سفارت کار نے اخبار ٹائمز آف اسرائیل کو بتایا کہ اسرائیل نے نجی مذاکرات میں اس آپشن کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا۔
گذشتہ ہفتے رفح میں اسرائیلی فوج اور حماس کے مسلح افراد کے درمیان جھڑپوں کے باعث جنگ بندی خطرے میں پڑ گئی تھی، جس کے بعد امریکہ نے حماس کے محصور جنگجوؤں کو 24 گھنٹے کے لیے محفوظ راستہ دینے کی تجویز پیش کی۔ ابتدا میں حماس نے اس پیشکش کو رد کیا، مگر بعد میں اس میں دلچسپی ظاہر کی۔ اسرائیلی دائیں بازو کے وزرا نے اس اقدام کی شدید مخالفت کی، جس سے صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف رفح میں فوری جنگ بندی کو یقینی بنائے گا بلکہ مستقبل میں غزہ کی سیاسی و اقتصادی بحالی کے لیے ایک نیا ماڈل بھی فراہم کرے گا۔
