واشنگٹن/نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے واشنگٹن سے استفسار کیا ہے کہ کیا اس کے خلاف عائد امریکی پابندیاں ہٹائی جا سکتی ہیں۔ صدر ٹرمپ کے مطابق ایران پر عائد پابندیاں انتہائی سخت ہیں اور اس نے اس بات کا عندیہ دیا ہے کہ وہ اپنی خواہشات اور عالمی امور میں شامل ہونے کے لیے اس پابندی کے خاتمے کی امید رکھتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا ایران پر امریکی پابندیاں بہت زیادہ سخت ہیں، جس کی وجہ سے ان کے لیے وہ کرنا مشکل ہو گیا ہے جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کی یہ استفسار اس بات کی علامت ہے کہ تہران ممکنہ طور پر مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن واشنگٹن کے ساتھ تعلقات کی بنیاد اسرائیل کی حمایت اور مشرقِ وسطیٰ میں فوجی مداخلت پر منحصر رہے گی۔
نیویارک میں اقوامِ متحدہ میں ایران کے مشن نے صدر کے بیان پر فوری ردعمل نہیں دیا۔ تاہم ایران کے رہبرِ اعلیٰ علی خامنہ ای نے پیر کے روز واضح کیا تھا کہ جب تک واشنگٹن اسرائیل کی حمایت جاری رکھے گا اور مشرقِ وسطیٰ میں فوجی مراکز و مداخلت برقرار رہے گی، ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی تعاون ممکن نہیں۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات کے پانچ ادوار مکمل ہو چکے ہیں، لیکن دونوں فریقین کسی حتمی معاہدے یا نتیجے تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔ مغربی طاقتیں ایران سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ یورینیم کی افزودگی کو مکمل طور پر روک دے، جبکہ تہران نے اس مطالبے کو واضح طور پر مسترد کیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے اپنی دوسری مدت صدارت کے آغاز کے بعد ایران پر متعدد پابندیاں عائد کی تھیں، جن میں اقتصادی اور مالی پابندیاں شامل ہیں۔ جون میں اسرائیل-ایران کشیدگی کے دوران امریکہ نے ایران کے جوہری مراکز پر بمباری بھی کی تھی، جس سے خطے میں تناؤ مزید بڑھ گیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے تعلقات میں موجودہ پیچیدگی مشرقِ وسطیٰ کی سیاسی صورتحال، عالمی توانائی کی منڈی، اور خطے میں سلامتی پر بھی براہِ راست اثر ڈالتی ہے۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے نئے دور کا آغاز ہوتا ہے، تو یہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ عالمی سیاست میں بھی اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کا پابندیوں کے خاتمے پر بات چیت میں دلچسپی لینا ممکنہ طور پر عالمی اقتصادی اور توانائی کے بازاروں کے لیے مثبت ہو سکتا ہے۔امریکی پابندیوں کا اثر ایران کی معیشت اور داخلی ترقیاتی منصوبوں پر شدید رہا ہےایران-امریکہ تعلقات کی بہتری خطے میں دیگر ممالک کے تعلقات پر بھی اثر ڈال سکتی ہے، خاص طور پر اسرائیل اور مشرقِ وسطیٰ کے مسلمان ممالک کے تعلقات پر۔
