غزہ / واشنگٹن :مشرقِ وسطیٰ کے لیے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن، اسرائیل پر دباؤ ڈال رہا ہے تاکہ جنوبی غزہ کی پٹی میں محصور حماس کے جنگجوؤں کو ہتھیار ڈالنے کے بعد نکلنے کا محفوظ راستہ دیا جائے۔ تاہم، امریکی کوششوں کے باوجود اسرائیلی وزیرِ دفاع یسرائیل کاتز نے دوٹوک انداز میں اس پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے فوج کو غزہ کی تمام سرنگیں مکمل طور پر تباہ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
کاتز نے گزشتہ روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر جاری بیان میں کہا،
میں نے اسرائیلی فوج کو حکم دیا ہے کہ غزہ کی آخری سرنگ تک انہیں تباہ کر دیا جائے۔ اگر سرنگیں نہیں ہوں گی، تو حماس بھی نہیں ہو گی۔ان کا یہ سخت مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی ایلچی نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن اسرائیل پر زور دے رہا ہے کہ وہ رفح کی زیرِ زمین سرنگوں میں پھنسے تقریباً 100 سے 200 حماس جنگجوؤں کو محفوظ راستہ فراہم کرے بشرطِ یہ کہ وہ ہتھیار ڈال دیں۔ وٹکوف کے مطابق، یہ منصوبہ غیر مسلحی اور عام معافی کے ایک بڑے پروگرام کے لیے نمونہ بن سکتا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی اندازوں کے مطابق غزہ میں اب بھی 200 سے 300 جنگجو زیرِ زمین سرنگوں میں موجود ہیں، جبکہ ‘وال اسٹریٹ جرنل’ نے عرب ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ان کی تعداد تقریباً 100 ہے۔ زیادہ تر جنگجو رفح میں محصور ہیں، جبکہ کچھ خان یونس، بیت حانون اور الشجاعیہ کے علاقوں میں بھی موجود ہیں۔
عرب ذرائع کے مطابق، خوراک کی شدید قلت کے باعث بعض جنگجو ممکنہ طور پر ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس دوران، گزشتہ ہفتے اسرائیلی فوج اور حماس کے درمیان جھڑپوں نے 10 اکتوبر سے جاری جنگ بندی کو خطرے میں ڈال دیا تھا۔ امریکی حکام نے اس کے بعد حماس کو 24 گھنٹوں کے لیے “محفوظ راستہ” دینے کی پیشکش کی، تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جا سکے۔
ابتدائی طور پر حماس نے اس تجویز کو مسترد کر دیا، تاہم بعد میں اس میں دلچسپی ظاہر کی۔ لیکن اسرائیلی حکومت میں شامل سخت گیر وزرا نے اس خیال کی شدید مخالفت کی، جس سے سفارتی فضا مزید تناؤ کا شکار ہو گئی۔

Add A Comment