یروشلم: اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق سابق میجر جنرل یفات تومیر یروشلمی، جو پراکیوشن شعبے کی سربراہ رہ چکی ہیں، کو حال ہی میں گرفتار کرنے کے بعد ایمرجنسی اور ریسکیو ادارے میگن ڈیوڈ ایڈوم نے ہسپتال منتقل کیا ہے۔ ان کے اقدام خودکشی کے بعد انہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی اور حکام کا کہنا ہے کہ ان کی حالت خطرے سے باہر ہے اور ہوش میں ہیں۔
یروشلمی نے فلسطینی قیدیوں پر اسرائیلی فوجیوں کے تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا اور حکومتی ردعمل سے بچنے کے لیے رُوپوش ہو گئی تھیں۔ سابق میجر جنرل کے کردار اور زیر نگرانی جیلوں میں فلسطینی قیدیوں کو دی جانے والی مبینہ تشدد کی رپورٹس نے اسرائیلی فوج اور انسانی حقوق کے اداروں میں ہنگامہ برپا کر دیا تھا۔
اسرائیلی سیکیورٹی اداروں نے یروشلمی کو عدالت میں پیش کیا، لیکن عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کے بجائے نظر بند رکھنے کا حکم دیا اور تفتیش کی اجازت دی۔ پولیس اور پراسیکیوٹر کے مطابق ان کی نظر بندی میں توسیع کی ضرورت ہے اور ان کا پاسپورٹ بھی ضبط کرنے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ وہ ملک سے فرار نہ ہو سکیں۔
تفتیشی عمل اور اسرائیلی فوج کی نگرانی کے دوران، یروشلمی نے خودکشی کی کوشش کی تاکہ مبینہ تشدد اور اذیت سے بچ سکیں، جو انہیں اپنے فوجی رفقا کی جانب سے خطرہ محسوس ہوا۔ اس معاملے نے اسرائیل میں انسانی حقوق، فوجی شفافیت، اور جیلوں میں تشدد کے موضوعات پر نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے بارہا یہ کہا تھا کہ اسرائیلی فوج قاعدے اور قانون کی پابند ہے، لیکن یروشلمی کے زیر نگرانی فلسطینی قیدیوں کے خلاف مبینہ تشدد کے انکشاف نے عالمی سطح پر سوالات پیدا کر دیے ہیں۔ اس واقعے کے بعد بین الاقوامی توجہ بھی اس بات پر مرکوز ہو گئی ہے کہ فوجی اعلیٰ عہدیدار کس حد تک قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں کو پورا کر رہے ہیں۔
اسرائیلی ایمرجنسی ادارے کی جانب سے ہسپتال منتقل ہونے کے بعد یروشلمی کی صحت محفوظ ہے، مگر ان کے مستقبل اور تفتیش کا عمل جاری ہے۔ اسرائیلی پولیس اور پراسیکیوٹرز کے مطابق ان کی نظر بندی اور قانونی کارروائی مزید شدت اختیار کرسکتی ہے، جبکہ سابق فوجی افسر کی معاشرتی اور قانونی ذمہ داریوں پر عوامی اور عالمی مباحثہ تیز ہو گیا ہے۔
