ابوظہبی: متحدہ عرب امارات نے واضح طور پر عندیہ دیا ہے کہ وہ غزہ میں تعینات ہونے والی مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس کا حصہ نہیں بنے گا۔ یہ اعلان یو اے ای کے صدارتی مشیر اور سینئر اہلکار انور گرقاش نے کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک بین الاقوامی فورس کے لیے کوئی واضح فریم ورک یا اہداف فراہم نہیں کیے گئے، اس لیے متحدہ عرب امارات کسی فوجی یا سیکیورٹی کارروائی میں شامل ہونے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
انور گرقاش نے بیان میں مزید کہا کہ متحدہ عرب امارات غزہ میں پائیدار امن، انسانی ہمدردی اور سیاسی حل کی حمایت جاری رکھے گا، تاہم فوجی شمولیت کے لیے شفاف اہداف، قانونی ڈھانچہ اور واضح ذمہ داریاں لازمی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وقت موجودہ صورتحال میں متحدہ عرب امارات کسی بھی فورس کا حصہ نہیں بنے گا۔
غزہ میں بین الاقوامی فورس کے قیام کے منصوبے میں پاکستانی فوجی دستے کی شرکت کا امکان زیر غور ہے، جس کا ذکر اسرائیلی میڈیا نے بھی کیا ہے۔ اس فورس کا مقصد غزہ میں امن قائم کرنا، انسانی ہمدردی کی سرگرمیوں کو منظم کرنا اور سیاسی استحکام کو فروغ دینا بتایا گیا ہے۔
سینیئر مبصرین کا کہنا ہے کہ یو اے ای کا یہ موقف مشرق وسطیٰ میں پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی صورتحال، قانونی ذمہ داریوں اور فوجی شمولیت کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے سامنے آیا ہے۔ اس فیصلے سے بین الاقوامی فورس کی تشکیل اور اس کے دائرہ کار پر نئی بحث چھڑ سکتی ہے
