بیروت میں سیاسی کشیدگی اس وقت شدت اختیار کر گئی جب حزب اللہ کے نائب سیکرٹری جنرل شیخ نعیم قاسم نے دوٹوک انداز میں اعلان کیا کہ تنظیم اپنے اسلحے سے دستبردار نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ فائر بندی معاہدے میں حزب اللہ کے لیے “قابلِ قبول قیمت” یہ تھی کہ لبنانی فوج کو جنوبی علاقوں میں تعینات کیا گیا اور ریاست نے چار دہائیوں بعد اپنی ذمہ داری سنبھالنے پر آمادگی ظاہر کی۔
نعیم قاسم نے واضح کیا کہ حزب اللہ صرف دریائے لیتانی کے جنوب تک فائر بندی معاہدے کو تسلیم کرتی ہے۔ ان کے مطابق، اسرائیل کو لبنان کی سرزمین سے مکمل انخلا کرنا ہوگا اور لبنانی قیدیوں کو رہا کرنا ہوگا، تبھی شمالی اسرائیلی بستیوں کے تحفظ کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔
انہوں نے کسی نئے معاہدے یا شرائط کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پرانے معاہدے کی تمام شقیں نافذ ہونے کے بعد ہی لبنان کی خودمختاری اور طاقت پر داخلی مکالمہ ممکن ہے، جس میں کسی بیرونی قوت کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔شیخ نعیم قاسم نے زور دیتے ہوئے کہا اپنے وجود کے دفاع کے لیے جو کچھ ضروری ہوا، وہ ہم ضرور کریں گے۔
دوسری جانب لبنانی وزیراعظم نواف سلام نے ایک مختلف موقف اپناتے ہوئے کہا کہ حکومت کا مقصد ریاست کی مکمل خودمختاری اور عسکری کنٹرول کو بحال کرنا ہے۔ بیروت ٹیکنالوجی اینڈ آرٹیفیشل انٹیلیجنس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں اسلحے کا مکمل اختیار صرف ریاست کے پاس ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ عرب و بین الاقوامی حمایت اسرائیلی افواج کے انخلا اور حملوں کے خاتمے کے لیے حاصل ہے، اور اب لبنانی حکومت “جنگ و امن کے فیصلوں کا اختیار دوبارہ سنبھال چکی ہےجو کہ حزب اللہ کے حالیہ بیان کے براہِ راست جواب کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
چند روز قبل حزب اللہ نے صدر جوزف عون، وزیراعظم نواف سلام اور پارلیمنٹ کے اسپیکر نبیہ بری کے نام ایک کھلا خط جاری کیا تھا، جس میں اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کو مسترد کیا گیا۔ خط میں کہا گیا کہ لبنان کا موجودہ مقصد اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ ہے، نہ کہ مذاکرات۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب صدر عون نے متعدد مواقع پر اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی آمادگی ظاہر کی تھی، مگر ان کے بقول اسرائیل نے “بات چیت کے بجائے جنوبی لبنان پر حملے تیز کر دیے۔
درایں اثنا،امریکی ایلچی ٹام بریک نے گزشتہ ہفتے منامہ میں لبنان پر زور دیا تھا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کا آغاز کرے، جسے حزب اللہ نے سختی سے مسترد کر دیا۔
