یروشلم:اسرائیلی ریاست کے فوجی سربراہ جنرل ایال زامیر نے 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے بڑے اور تباہ کن حملے کی داخلی و ادارہ جاتی سطح پر تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اس حملے کے دوران سیکیورٹی نظام کی ناکامی کے اسباب کو واضح کیا جا سکے۔
جنرل زامیر نے یہ بیان پیر کے روز دیا، جو ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی حکومت اب تک اس سانحے کی ریاستی سطح پر جامع انکوائری کمیشن قائم کرنے سے گریزاں ہے۔دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسرائیلی ریاست اس واقعے پر کوئی مکمل اور شفاف تحقیقات شروع نہیں کر سکی، جسے ملک کی تاریخ کی سب سے بڑی سیکیورٹی ناکامی قرار دیا جاتا ہے۔
ایال زامیر کے مطابق، ان کی قائم کردہ ماہر انکوائری کمیٹی کی تازہ رپورٹ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ فوج کے اندر ایک مؤثر اندرونی تحقیقات کی فوری ضرورت ہے تاکہ ادارے کی نظامی کمزوریوں اور فیصلہ سازی کی خامیوں کا پتہ چلایا جا سکے۔
انہوں نے کہا یہ رپورٹ اسی قدم کی نمائندہ ہے جس کی اسرائیلی سوسائٹی اور دفاعی ادارے کو اشد ضرورت تھی۔ اب ہمیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ایسا واقعہ دوبارہ کبھی رونما نہ ہو۔آرمی چیف نے اس بات پر زور دیا کہ فوجی تنظیم کے اندرونی ڈھانچے اور کمانڈ کے نظام کا ازسرِ نو جائزہ لینا ضروری ہے، کیونکہ اب تک ان عوامل پر کوئی جامع تجزیہ نہیں ہوا۔
رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیلی آبادی کی اکثریت تحقیقات کے حق میں ہے تاکہ حماس کے حملے کو روکنے میں ناکامی کے ذمہ داران کا تعین کیا جا سکے۔تاہم وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اس مطالبے کو سیاسی دباؤ قرار دیتے ہوئے مسلسل انکار کر رہے ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب تک غزہ میں جنگ جاری ہے، انکوائری کمیشن کا قیام سیکیورٹی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق اسرائیلی قانون کے تحت انکوائری کمیشن حکومت کے فیصلے سے بنتا ہے، مگر اس کے ارکان کی نامزدگی کا اختیار عدلیہ کے پاس ہےاور یہی نکتہ حکومت اور عدلیہ کے درمیان شدید تناؤ کی وجہ بنا ہوا ہے،نیتن یاہو حکومت عدلیہ پر بائیں بازو کی طرف جھکاؤ اور سیاسی جانبداری کے الزامات عائد کرتی رہی ہے، اور اسی بنیاد پر عدالتی اختیارات محدود کرنے کی کوششیں بھی حکومتی ایجنڈے کا حصہ ہیں۔
اپوزیشن نے پیر کے روز ریاستی کمیشن کے قیام کا باضابطہ مطالبہ کیا، مگر نیتن یاہو نے اسے حکومت کے خلاف سیاسی مہم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کمیشن صرف وسیع قومی اتفاقِ رائے کے بعد ہی قائم کیا جا سکتا ہے حالانکہ جنگ کے تسلسل کے لیے انہوں نے کبھی اس اتفاقِ رائے کو شرط نہیں بنایا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی نائن الیون کمیشن کی طرز پر فوری تحقیقات کا قیام اسرائیل کے لیے شفافیت کی سمت اہم قدم ہو سکتا ہے۔یاد رہے کہ فروری 2024 میں اسرائیلی فوج کی ایک داخلی رپورٹ میں تسلیم کیا گیا تھا کہ 7 اکتوبر کے حماس حملے کے دوران سیکیورٹی ادارے مکمل طور پر ناکام رہے تھے، جس کے نتیجے میں 1200 سے زائد اسرائیلی ہلاک اور متعدد مغوی بنے۔
