واشنگٹن/یروشلم: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان امن معاہدے کے مستقبل پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔
امریکی اخبار پولیٹیکو (Politico) کے مطابق، انتظامیہ کے اندرونی اجلاسوں میں سامنے آنے والی خصوصی دستاویزات سے پتا چلتا ہے کہ معاہدے کے متعدد نکات پر عمل درآمد میں شدید رکاوٹیں حائل ہیں، اور امن منصوبے کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل طے نہیں ہو سکا۔
یہ دستاویزات گزشتہ ماہ امریکی فوجی کمان CENTCOMاور سول ملٹری کوآرڈینیشن سینٹر کے زیرِ اہتمام ہونے والے دو روزہ اجلاس میں پیش کی گئیں، جو جنوبی اسرائیل میں اس امن معاہدے کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ معاہدہ 10 اکتوبر 2025 سے نافذالعمل ہے۔اجلاس کی صدارت امریکی سکیورٹی کوآرڈینیٹر برائے اسرائیل و فلسطینی اتھارٹی لیفٹیننٹ جنرل مائیکل فنزل نے کی، جبکہ تقریباً 400 شرکاء نے شرکت کی جن میں امریکی وزارتِ خارجہ، دفاع، امدادی اداروں، این جی اوز اور نجی سکیورٹی کمپنیوں کے نمائندے شامل تھے۔
دستاویزات کے مطابق، امریکی حکام کو خاص تشویش اس بات پر ہے کہ آیا غزہ میں بین الاقوامی استحکام فورس کا قیام عملی طور پر ممکن بھی ہے یا نہیں۔ ایک سلائیڈ میں امن منصوبے کے پہلے اور دوسرے مرحلے کے درمیان سوالیہ نشان نمایاں دکھایا گیا، جو معاہدے کے غیر یقینی مستقبل کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔اجلاس میں پیش کیے گئے مواد میں امریکی حکومتی رپورٹس، فیلڈ انٹیلی جنس بریفنگز، اور سابق برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے انسٹی ٹیوٹ کی مشاورتی دستاویزات بھی شامل تھیں۔
یہ مجموعی طور پر 67 دستاویزات پر مشتمل ایک پیکیج تھا، جو چھ حصوں میں تقسیم ہے اور غزہ میں پائیدار امن کے حصول کے راستے میں حائل رکاوٹوں اور امریکی شمولیت کے خدوخال کو واضح کرتا ہے۔ان رپورٹس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ غزہ میں محض سکیورٹی معاملات ہی نہیں بلکہ معاشی بحالی، تعمیرِ نو اور گورننس میں بھی مرکزی کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔
تاہم ان منصوبوں کے لیے درکار مالی و انتظامی وسائل ابھی تک واضح نہیں کیے گئےامریکی دستاویزات کے مطابق، غزہ کو چلانے والی فلسطینی انتظامیہ کو آئندہ برسوں میں امریکہ اور عالمی برادری سے وسیع مالی و سکیورٹی تعاون کی ضرورت ہوگی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنگ کے بعد حماس دوبارہ اپنی پولیس اور سکیورٹی ڈھانچے کے ذریعے علاقے پر گرفت مضبوط کر رہی ہے، جبکہ روزانہ صرف 600 ٹرک امداد غزہ پہنچ رہی ہے، جس سے غذائی و طبی بحران مزید بڑھ رہا ہے۔ایک اور امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں کہا گیا کہ حماس وقت حاصل کرنے اور اپنے اثر و رسوخ کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اور مستقبل میں پراکسی حملوں یا پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے اپنی سیاسی پوزیشن مستحکم کر سکتی ہے۔
امریکی انتظامیہ اس وقت اقوامِ متحدہ کی منظوری کے بعد ایک بین الاقوامی ڈونرز کانفرنس بلانے کی تیاری کر رہی ہے، جس کا مقصد غزہ کی تعمیرِ نو اور سکیورٹی کے لیے مالی امداد حاصل کرنا ہے۔تاہم اس منصوبے کے لیے واضح ٹائم لائن یا ممالک کی مالی وعدہ بندی ابھی تک طے نہیں کی گئی
پینٹاگون کے ایک سینئر اہلکار نے پولیٹیکو کو بتایا کہ یہ دستاویزات انتظامیہ کی گہری تشویش کی عکاس ہیں۔ ہم اقوامِ متحدہ کے فیصلے کے منتظر ہیں، اس کے بعد ڈونرز کانفرنس بلائی جائے گی اور شریک ممالک اپنی شراکت کے وعدے کریں گے۔دستاویزات میں واضح کیا گیا کہ اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان غزہ کے انتظامی کنٹرول پر اب بھی گہرے اختلافات موجود ہیں۔
فلسطینی اتھارٹی 2007 سے قبل کی طرح مکمل کنٹرول چاہتی ہے، لیکن اسرائیل اس تجویز کو سکیورٹی خدشات کے باعث مسترد کرتا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ کے مرتب کردہ 20 نکاتی امن منصوبے کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کو اس عمل میں شامل ہونے سے قبل اصلاحات اور شفافیت کے اقدامات کرنا ہوں گے، جس کے بغیر کسی نئی سیاسی ساخت پر اتفاق ممکن نہیں۔
دستاویزات کے اختتام پر ایک امریکی اہلکار کے حوالے سے کہا گیا کہ ابھی یہ سوال برقرار ہے کہ آیا امریکہ کے لیے غزہ میں طویل مدتی فوجی یا سیاسی کردار رکھنا دانشمندی ہوگی یا نہیں۔ان کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ چاہتی ہے کہ دیگر علاقائی اور مغربی شراکت دار ممالک زیادہ فعال کردار ادا کریں، تاکہ امریکہ پر بوجھ کم ہو اور علاقائی استحکام کا بوجھ مشترکہ طور پر اٹھایا جا سکے۔
