تل ابیب/غزہ: اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے جمعہ کو اعلان کیا کہ جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ میں موجود آخری چار قیدیوں میں سے ایک کی لاش ریڈ کراس کے ذریعے موصول ہو گئی ہے۔ دفتر کے مطابق تابوت کو غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج اور شِن بیٹ سکیورٹی سروس کے حوالے کیا گیا اور بعد ازاں شناخت کے لیے تل ابیب بھیجا گیا۔
اسرائیلی فوج نے بعد میں تصدیق کی کہ لاش اسرائیلی سرزمین پر پہنچ چکی ہے۔ یہ مرحلہ حماس اور اسلامی جہاد کے مسلح ونگز کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ میں موجود باقیات اسرائیل کو منتقل کرنے کے عمل کا حصہ ہے۔ حماس نے بتایا کہ یہ لاش علاقے کے جنوب میں خان یونس سے ملی۔
جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد حماس نے تمام زندہ قیدیوں کو رہا کر دیا اور معاہدے کی شرائط کے مطابق پہلے ہی 24 مردہ قیدیوں کی باقیات اسرائیل کے حوالے کر دی گئی تھیں۔ اس کے بدلے میں اسرائیل نے اپنی تحویل میں موجود تقریباً 2000 فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا اور سینکڑوں ہلاک شدہ فلسطینیوں کی لاشیں واپس کیں۔
اسرائیل نے حماس پر قیدیوں کی لاشیں واپس کرنے میں سست روی کا الزام عائد کیا ہے، جبکہ فلسطینی گروپ نے وضاحت کی کہ یہ عمل اس لیے سست ہے کیونکہ دو سالہ جنگ کے بعد لاشیں غزہ کے ملبے تلے دب گئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ تبادلہ معاہدہ ایک حساس اور نازک مرحلہ ہے، جو دونوں فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے نہایت اہم ہے۔
