اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں واضح طور پر "قابلِ مذمت” قرار دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق دیر استیا کے قصبے میں واقع مسجد پر منظم حملے کے بعد عالمی سطح پر ردعمل شدت اختیار کر رہا ہے، جس پر سیکریٹری جنرل نے کہا کہ عبادت گاہوں کی بے حرمتی اور مذہبی مقامات کو نشانہ بنانا نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس سے پورے خطے میں کشیدگی مزید بھڑکنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوجیرک نے بتایا کہ انتونیو گوتریس نے مسجد پر حملے کے ساتھ ساتھ فلسطینی گھروں، املاک اور زرعی اراضی پر یہودی آبادکاروں کی جانب سے ہونے والی مسلسل حملہ آور کارروائیوں کو بھی شدید تشویش کا باعث قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ حملے نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہیں بلکہ فلسطینی شہریوں کی روزمرہ زندگی کو غیر محفوظ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے واقعات خطے میں تشدد کے نئے سلسلے کو جنم دے سکتے ہیں جو امن کی کوششوں کیلئے سخت دھچکا ثابت ہوگا۔
اسٹیفن ڈوجیرک کے مطابق بین الاقوامی قوانین واضح طور پر کہتے ہیں کہ کسی بھی مقبوضہ علاقے میں قابض قوت پر شہری آبادی کی حفاظت کی مکمل ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل، بطور قابض قوت، فلسطینی شہریوں، ان کی املاک اور ان کے مذہبی مقامات کے تحفظ کا پابند ہے۔
ڈوجیرک نے زور دیا کہ اسرائیل کو ایسے حملوں کے مرتکبین کے خلاف قانونی کارروائی کرنی چاہیے اور فلسطینی علاقوں میں مزید تشدد روکنے کیلئے عملی اقدامات کرنا ہوں گے، کیونکہ مسلسل بگڑتی صورتحال خطے کے استحکام کیلئے سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی سیکریٹری جنرل کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبادکاروں کے تشدد کو روکنے کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔
