اسلام آباد/عمان: پاکستان کے فوجی سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے سرکاری دورۂ اردن کے دوران انہوں نے شاہِ اردن عبداللہ دوم ابن الحسین سے اعلیٰ سطحی ملاقات کی، جس میں اردن کے ولی عہد شہزادہ الحسین بن عبداللہ دوم بھی شریک رہے۔ فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے باضابطہ بیان کے مطابق ملاقات میں دونوں ملکوں کے مابین دفاعی تعاون کو مضبوط بنانے، علاقائی سلامتی کے چیلنجز، اور باہمی دلچسپی کے دیگر اسٹریٹجک امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ آرمی چیف نے شاہِ اردن کو پاکستان کے عوام، حکومت اور مسلح افواج کی جانب سے نیک تمناؤں کا پیغام پہنچایا اور پاکستان کی جانب سے اردن کے ساتھ دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ شاہِ اردن نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت، تربیت اور بین الاقوامی امن آپریشنز میں خدمات کی تعریف کی اور دفاعی تعاون کو بڑھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے مشترکہ فوجی تربیتی کورسز، افسران کے تبادلے، بحری اور زمینی مشقوں میں شراکت داری اور انٹیلی جنس تعاون کو مزید مؤثر بنانے کے طریقوں پر بھی غور کیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دورے کے دوران اردن کے جنرل ہیڈ کوارٹرز کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف میجر جنرل یوسف احمد الحنیطی نے سخت روایتی فوجی اعزاز کے ساتھ خوش آمدید کہا اور گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ جی ایچ کیو میں ہونے والی ملاقات میں دونوں طرف سے پاک-اردن عسکری تعلقات کی تاریخ، امن قائم رکھنے میں مشترکہ ذمہ داریوں اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ میجر جنرل الحنیطی نے پاک فوج کی صلاحیتوں اور علاقائی امن کے لیے اس کے کردار کو سراہا اور کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو مزید فعال انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔
تجزیہ کار اس دورے کو خطے میں بدلتے ہوئے جیو اسٹریٹجک منظرنامے، خاص طور پر مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاک اردن دفاعی روابط کی مضبوطی نہ صرف دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے بلکہ خطے میں استحکام، فوجی تعاون اور انسداد دہشت گردی میں باہمی مدد کے امکانات کو بھی فروغ دے گی۔ اس کے علاوہ، تبادلے اور تربیتی پروگرام دونوں فوجوں کو جدید حربی تکنیک، افسران کی قیادت اور ملٹی نیشنل آپریشنز میں اشتراک کے لیے بہتر طور پر تیار کریں گے۔
سفارتی سطح پر بھی اس دورے کو مثبت پیغام سمجھا جا رہا ہے: یہ پاکستان کی باہمی دفاعی شراکت داری اور علاقائی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات بنانے کی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔ دونوں جانب سے جاری کردہ بیانات میں اس عزم کا اظہار بھی شامل تھا کہ آئندہ بھی باہمی مشاورت کے ذریعے دفاع، سکیورٹی اور اقتصادی شعبوں میں تعاون کو بڑھایا جائے گا تاکہ خطے میں پائیدار امن اور ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔
مجموعی طور پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کا یہ دورہ پاک-اردن تعلقات میں ایک نیا مرحلہ ثابت ہونے کی توقع ہےجہاں عسکری، دفاعی اور سکیورٹی شراکت داری کو مزید گہرائی ملے گی اور علاقائی چیلنجز کے مشترکہ حل کے لیے دو طرفہ راستے کھلیں گے۔
