اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں پیش کی جانے والی قرارداد پر فلسطینی مزاحمتی گروپوں نے شدید اعتراضات کا اظہار کیا ہے۔ حماس اور دیگر گروپوں نے قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فلسطینی فیصلہ سازی پر بیرونی قوتوں کے کنٹرول کی راہ ہموار کرے گی اور غزہ کی حکومت اور تعمیر نو کو غیرملکی سرپرستی میں لے جائے گی۔
خبر ایجنسیوں کے مطابق، سلامتی کونسل میں آج نہ صرف اس قرارداد پر ووٹنگ ہوگی بلکہ غزہ میں عبوری حکومت کے قیام اور بین الاقوامی استحکام فورس کی تعیناتی پر بھی رائے شماری متوقع ہے۔ عرب میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق، حماس نے موقف اختیار کیا ہے کہ قرارداد سے فلسطینی عوام سے ان کا حکمرانی کا حق چھین لیا جائے گا اور غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کا مطلب غیرملکی کنٹرول ہوگا۔
حماس نے زور دیا ہے کہ انسانی امداد کا انتظام اقوام متحدہ کے زیر نگرانی فلسطینی اداروں کے پاس ہونا چاہیے اور غزہ کو غیرمسلح کرنے یا فلسطینیوں سے مزاحمت کا حق چھیننے کی کوئی تجویز قابل قبول نہیں۔ گروپ نے مطالبہ کیا ہے کہ قرارداد میں جنگ بندی پر عمل درآمد اور غزہ میں بین الاقوامی امن فورس کے قیام کو شامل کیا جائے تاکہ علاقے میں حقیقی استحکام اور عوام کی خودمختاری برقرار رہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کی یہ ووٹنگ عالمی سطح پر فلسطینی مسئلے کے حل میں ایک اہم قدم تصور کی جاتی ہے، لیکن حماس اور دیگر گروپوں کے مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ فلسطینی قیادت کے اندر اتفاق رائے پیدا کرنا آسان نہیں ہوگا۔ اس پیش رفت کے بعد مستقبل میں غزہ کے لیے کسی بھی بین الاقوامی حکمت عملی کو عملی شکل دینے میں پیچیدگیاں بڑھ سکتی ہیں۔
