دبئی میں واقع جیمز اسکول آف ریسرچ اینڈ انوویشن نے جدید ٹیکنالوجی، روبوٹکس اور تعلیم کے معیار کے حوالے سے دنیا کے بہترین اسکولوں میں اپنی پہچان بنا لی ہے۔ یہ اسکول 47,600 مربع میٹر پر محیط ہے اور اس کی تعمیر پر تقریباً 100 ملین ڈالر لاگت آئی ہے۔ اسکول کے کیمپس میں طلباء کو مصنوعی ذہانت کی لیبز، روبوٹکس، ای اسپورٹس، پرفارمنگ آرٹس اور جسمانی کھیلوں کی جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں تاکہ وہ تخلیقی صلاحیتوں اور عملی علوم میں مہارت حاصل کر سکیں۔
اسکول میں تعلیم دینے والے اساتذہ اور رہنماؤں میں صنعتی اور علمی ماہرین شامل ہیں، جو طلباء کو تحقیق، تخلیق اور قیادت کے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ نصاب برطانوی نظام تعلیم پر مبنی ہے، لیکن اسے جدید تحقیق اور تخلیق پر مبنی ماڈل کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے تاکہ طلباء عالمی سطح کے مقابلوں اور پیشہ ورانہ چیلنجز کے لیے تیار ہوں۔ اسکول کی سالانہ فیس ایک لاکھ سولہ ہزار درہم سے شروع ہو کر اعلیٰ کلاسز کے لیے دو لاکھ چھ ہزار درہم تک جاتی ہے۔
کیمپس میں ایک بلند فٹبال میدان، اولمپک سائز سوئمنگ پول، باسکٹ بال کورٹ، روبوٹکس لیبز، ڈیزائن اسٹوڈیوز اور تحقیقاتی مراکز موجود ہیں، جبکہ شمسی توانائی اور جدید پانی کی بچت کے نظام اسکول کے ماحول دوست وژن کی عکاسی کرتے ہیں۔
جیمز ایجوکیشن کے بانی اور چیئرمین نے کہا کہ یہ اسکول آنے والے کل کے کلاس روم کی بہترین مثال ہے، جہاں ہر طالب علم کو تخلیق، قیادت اور تحقیق کے مواقع میسر ہوں گے اور وہ عالمی سطح پر تعلیمی اور صنعتی چیلنجز کے لیے تیار ہوں گے۔ یہ اسکول نہ صرف تعلیم بلکہ تحقیق، کھیل، آرٹس اور ٹیکنالوجی کے امتزاج کے ذریعے ایک جامع تعلیمی ماحول فراہم کر رہا ہے جو مستقبل کے رہنماؤں کی پرورش کرے گا۔
