فرانس نے جنوبی لبنان پر اسرائیلی حملوں میں بڑھتی ہوئی شدت پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور اسرائیلی فوج سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام اور لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔ فرانس کی وزارت خارجہ کے ترجمان پاسکل کونفارو نے واضح کیا کہ فرانس اسرائیل سے گولان کی پہاڑیوں سے پیچھے ہٹنے اور 27 نومبر 2014 کو طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کرنے کا مطالبہ کرتا ہے، جس کے تحت خطے میں امن قائم رکھنے کی کوششیں کی گئی تھیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی لبنان میں ہونے والے حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت نہ صرف افسوسناک بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے اور اس کی شدید مذمت کی جاتی ہے۔رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج نے بدھ کے روز جنوبی لبنان میں فضائی حملوں کی شدت میں اضافہ کر دیا، جس کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص ہلاک ہوا جبکہ متعدد عمارتیں بھی نقصان کا شکار ہوئیں۔
اسرائیل کے حکام کا دعویٰ ہے کہ یہ حملے حزب اللہ کی سرحدی علاقوں میں فوجی صلاحیتیں دوبارہ بنانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔اسرائیلی افواج اب بھی لبنانی حدود کے اندر پانچ سے زائد اہم مقامات پر تعینات ہیں، اور یہ اقدامات خطے میں کشیدگی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
شام میں بھی اسرائیلی افواج نے جنوبی بفر زون میں پیش قدمی کی اور گولان کی پہاڑیوں کو الگ کرنے والے اقوام متحدہ کے زیر نگرانی علاقوں میں اپنی پوزیشنیں مضبوط کر لیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے بدھ کو جنوبی شام میں اپنی افواج کا دورہ کیا، جس پر دمشق حکومت نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اس اقدام کو شام کی خودمختاری کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔ شامی حکومت نے اس دورے کو علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیا اور بین الاقوامی برادری سے اسرائیلی اقدامات کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔
ماہرین کے مطابق، اسرائیل کے یہ حملے نہ صرف لبنان اور شام کی سرحدی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں بلکہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے بھی چیلنجز پیدا کر سکتے ہیں۔ عالمی برادری کی جانب سے لبنان و شام کی سرحدی حدود اور شہری آبادی کے تحفظ کے لیے اقدامات کو ترجیح دی جانے کی ضرورت ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں انسانی اور سیاسی استحکام قائم رہے۔
