ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ان کا ملک عالمی سطح پر مذاکرات اور منصفانہ و متوازن معاہدے تک پہنچنے کے لیے تیار ہے، تاہم وہ مسلط شدہ شرائط کو کبھی قبول نہیں کرے گا۔ برطانوی جریدے “اکنامسٹ” کو دیے گئے انٹرویو میں عراقچی نے کہا کہ ایران نے اسرائیل کے ساتھ سابقہ جنگ سے اہم سبق سیکھا ہے اور اب پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہے۔ ان کے بقول، امریکی رویہ اکثر اپنے مفادات منوانے پر مرکوز رہا ہے، اور ایران نے پہلے ہی اس کا تجربہ کیا ہے۔ عراقچی نے واضح کیا کہ مذاکرات میں داخل ہونا ایران کا حق ہے، مگر کوئی بھی معاہدہ یک طرفہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ متوازن ہونا چاہیے۔
اسی دوران، ایرانی وزارت خارجہ نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے حالیہ فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا، اور اسے ایجنسی کی آزادی اور ساکھ کو نقصان پہنچانے والا قرار دیا۔ وزارت کے مطابق، یہ فیصلہ امریکہ اور یورپ کے سیاسی مفادات کے لیے ایجنسی کے استحصال کی واضح مثال ہے اور اس کے خلاف ایران نے قاہرہ معاہدہ منسوخ کرنے کے اقدامات اٹھائے ہیں۔ وزارت خارجہ نے زور دیا کہ امریکہ اور یورپی ممالک کی جانب سے مذاکرات کی دعوتیں عملی اقدامات کے بغیر غیر سنجیدہ ہیں۔
یہ پیش رفت اُس وقت سامنے آئی جب یورپ کی تین بڑی طاقتوں برطانیہ، جرمنی اور فرانس اور امریکہ نے آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں ایران سے مطالبہ کیا کہ وہ بم باری کے نشانے بنے اپنے جوہری مقامات اور یورینیم کے ذخائر کے بارے میں فوراً معلومات فراہم کرے اور ان تک ایجنسی کی رسائی یقینی بنائے۔ بورڈ نے متفقہ طور پر ایران سے کہا کہ وہ اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کی صورتحال رپورٹ کرے، جو اس وقت 440.9 کلوگرام تک پہنچ چکی ہے اور 60 فیصد تک افزودہ ہے، یعنی ہتھیار سازی کی حد کے قریب۔
سفارت کاروں کے مطابق، ایران اور یورپی ٹرائیکا کے مذاکرات دوبارہ شروع ہو چکے ہیں، مگر سلامتی کونسل کی طرف سے ایران پر پابندیوں کے سخت نفاذ پر زور بھی دیا جا رہا ہے۔ عراقچی نے واضح کیا کہ ایران مذاکرات کے لیے کھلا ہے، مگر کوئی سمجھوتہ صرف دباؤ اور یک طرفہ مطالبات پر مبنی نہیں ہوگا۔
