اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے جنوبی شام میں بفر زون کے حالیہ دورے کے دوران کہا ہے کہ دمشق کے ساتھ ممکنہ سکیورٹی معاہدہ شامی حکومت کے مفاد میں ہے، تاہم اسرائیل کسی بھی سرحدی خطرے یا تصادم کو برداشت کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
نیتن یاہو نے موجودہ فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ جولان کی پہاڑیوں اور جنوبی شام میں اسرائیل کی دفاعی اور جارحانہ صلاحیت برقرار رہے گی تاکہ ملک کی سرحدیں محفوظ رہیں اور دروز اتحادیوں کی حفاظت بھی یقینی بنائی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 7 اکتوبر کے واقعے کے بعد اسرائیل سرحدی تنازعات اور کسی بھی ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے پرعزم ہے، مگر اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ ممکنہ معاہدے کا براہِ راست فائدہ دمشق کو ہوگا۔
نیتن یاہو نے زور دیا کہ اسرائیل شام کے سرحدی خطرات کی مسلسل نگرانی کرے گا اور کسی بھی خطرے کی صورت میں فوری اور فیصلہ کن کارروائی سے گریز نہیں کرے گا۔ ان کے ہمراہ وزیر دفاع یسرائیل کاتز اور دیگر اعلیٰ فوجی حکام بھی موجود تھے، جنہوں نے جنوبی شام میں دفاعی تیاریوں، فوجی ہتھیاروں کی صلاحیت اور فوجی ڈسپلن کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔
دوسری جانب، شامی حکومت نے اس دورے کو غیر قانونی اور ملک کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے، اور عالمی برادری میں شدید مذمت کی گئی ہے۔ اسرائیل نے 8 دسمبر 2024 کے بعد جنوبی شام میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے، خاص طور پر بفر زون میں، اور متعدد فضائی حملے بھی کیے ہیں۔ اس کے باوجود، دمشق اور تل ابیب نے امریکی ثالثی میں براہِ راست مذاکرات کیے، لیکن ابھی تک کوئی حتمی سکیورٹی معاہدہ طے نہیں پایا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی موجودہ پالیسی خطے میں کشیدگی میں اضافہ اور بین الاقوامی کوششوں پر اثرانداز ہونے کا سبب بن سکتی ہے، کیونکہ اسرائیل کے دفاعی اقدامات اور شام کے ساتھ مذاکرات میں یکطرفہ مفادات کا توازن برقرار رکھنا خطے میں حساس سیاسی اور فوجی صورتحال پیدا کرتا ہے۔ اس صورتحال کے پیشِ نظر، تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جولان کی پہاڑیوں اور جنوبی شام میں اسرائیل کی دفاعی حکمت عملی، شام کی خودمختاری اور بین الاقوامی ثالثی کے درمیان کشیدہ توازن قائم رکھتی ہے۔
