ریاض/واشنگٹن: امریکی نیوز ویب سائٹ اکسیس کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیرِ اعظم شہزادہ محمد بن سلمان نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے (Normalization) سے متعلق امریکی درخواست کو دوٹوک انداز میں مسترد کر دیا۔
اکسیس کے مطابق، صدر ٹرمپ نے ملاقات کے دوران خواہش ظاہر کی تھی کہ سعودی عرب دیگر عرب ممالک کی طرح اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے میں شامل ہو جائے۔ تاہم شہزادہ محمد بن سلمان نے سعودی عرب کے دیرینہ فلسطین سے متعلق مؤقف کو دہراتے ہوئے اس تجویز کو قبول کرنے سے صاف انکار کیا۔
فلسطین کاقیام سعودی خارجہ پالیسی کی اولین ترجیح ہے، شہزادہ محمدبن سلمان
ملاقات میں ولی عہد نے واضح کیا کہ اسرائیل کے ساتھ کوئی بھی تعلق یا نارملائزیشن صرف اسی صورت ممکن ہے جب اسرائیل 1967ء کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کو تسلیم کرے، جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہو۔
اکسیس کی رپورٹ کے مطابق ولی عہد نے صدر ٹرمپ کے سامنے مضبوط اور غیر متزلزل موقف اپنایا، حتیٰ کہ امریکی حکام نے بھی انہیں ایک "طاقتور شخصیت” قرار دیا۔
18 نومبر کی تاریخی ملاقات
شہزادہ محمد بن سلمان کا یہ دورہ صدر ٹرمپ کی سرکاری دعوت پر ہوا۔ 18 نومبر کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے دوران سعودی ولی عہد کا خصوصی استقبال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان خطے کی سیاسی صورتحال، باہمی تعلقات اور اسٹریٹجک تعاون سے متعلق اہم گفتگو ہوئی۔
وائٹ ہاؤس پریس کانفرنس میں واضح پیغام
ملاقات کے بعد پریس کانفرنس میں شہزادہ محمد بن سلمان نے مشرقِ وسطیٰ کے تنازع پر سعودی عرب کی دیرینہ پالیسی بیان کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب خطے میں پائیدار امن چاہتا ہے، جس کی بنیاد صرف اور صرف فلسطینی عوام کے منصفانہ حقوق اور دو ریاستی حل پر ہے۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سعودی عرب ایک ایسا جامع منصوبہ تشکیل دے رہا ہے جو دو ریاستی حل کی حقیقی راہ ہموار کرے گا، تاکہ خطے میں پائیدار اور جامع امن قائم ہو سکے۔
سعودی عرب کا ہمیشہ سے اصولی مؤقف رہاہےسعودی عرب نے ہمیشہ سفارتکاری، بات چیت اور امن کی کوششوں کو ترجیح دی ہے۔ مملکت کا مؤقف ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی مستقل اور جامع امن کی بنیاد ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر ہی ہو سکتی ہے۔
