اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح میں ایک اہم کارروائی کے دوران پانچ مسلح فلسطینیوں کو ہلاک کر دیا ہے، جن میں سے تین افراد زیرِ زمین ایک سرنگ سے نکلتے ہی نشانہ بنے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق یہ کارروائی "براہِ راست خطرے” کو ختم کرنے کے لیے کی گئی۔
فوج کے مطابق نگرانی کے جدید نظام نے زیرِ زمین علاقے میں پانچ مشتبہ افراد کی نقل و حرکت کا سراغ لگایا، جس کے بعد بریگیڈ فورسز نے فوری کارروائی کرتے ہوئے انہیں ہلاک کر دیا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس کی بریگیڈ مشرقی رفح میں اب بھی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے، تاکہ علاقے کو ’’سرنگ نیٹ ورک‘‘ سے پاک کیا جا سکے۔
جنگ بندی مذاکرات کے درمیان کارروائی یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب مصر، قطر اور ترکیہ کے اعلیٰ وفود قاہرہ میں جمع ہوئے، جہاں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر بات چیت ہو رہی ہے۔ عرب ممالک کے ساتھ ساتھ امریکہ بھی ثالثی کے اس عمل میں شامل ہے۔
مصری سرکاری میڈیا کے مطابق اجلاس میں مصر اور ترکیہ کے انٹیلی جنس سربراہان کے علاوہ قطر کے وزیراعظم نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کا مرکزی موضوع یہ تھا کہ رواں جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کے لیے مشترکہ سفارتی کوششوں کو کس طرح تیز کیا جائے۔
اسرائیل کی پیش قدمی اور نئی حکمت عملی کےتحت اگرچہ اسرائیل جنگ بندی کے پہلے مرحلے میں کچھ علاقوں سے پیچھے ہٹ گیا تھا، لیکن حالیہ دنوں میں فوج نے اپنی پوزیشن ایک بار پھر آگے بڑھا دی ہے۔ مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے مشرقی غزہ شہر میں النزاز، الشعف اور بغداد کے متعدد حصوں میں تقریباً 300 میٹر تک نئی پیش قدمی کی ہے۔ اس مقصد کے لیے یلو لائن کی پرانی نشانیاں بھی ہٹا کر نئی جگہ لگا دی گئی ہیں۔
حماس کے جنگجوؤں کی تلاش جاری ہے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو مسلسل یہ بات دہرا رہے ہیں کہ غزہ میں حماس کا عسکری ڈھانچہ مکمل طور پر ختم کیا جائے گا، چاہے سرنگوں میں چھپے جنگجوؤں کا خاتمہ ہو یا ہتھیاروں کا۔ اسرائیل کو توقع ہے کہ محاصرے کے دوران درجنوں جنگجو ہلاک ہو چکے ہیں، جس کے بعد جنگ بندی کے دوسرے مرحلے پر پیش رفت ممکن ہوگی۔
غزہ میں جنگ بندی 10 اکتوبر سے جاری ہے، تاہم وقفے وقفے سے جھڑپیں اور سرنگوں پر کارروائیاں اس بات کا اشارہ دیتی ہیں کہ میدانِ جنگ میں فریقین کے درمیان کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔
