وزیراعظم شہباز شریف بحرین کے دو روزہ سرکاری دورے پر منامہ پہنچے جہاں انہیں پرتپاک استقبال دیا گیا۔ دورے کے دوران ان کی بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ سے اہم ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان تاریخی اور مضبوط شراکت داری پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے شاندار مہمان نوازی پر بحرین کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بحرین کے تعلقات باہمی احترام، مشترکہ ایمان اور دیرینہ خیر سگالی پر قائم ہیں۔
ملاقات میں بحرین کے بادشاہ نے وزیراعظم شہباز شریف کو آرڈر آف بحرین کے اعزاز سے نوازا۔ اس موقع پر انہوں نے ایک تاریخی انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے بحرین کی قانونی نمائندگی کی تھی اور ہمارے سرکاری ریکارڈ کے مطابق وہ بحرین کے وکیل رہے ہیں۔
دونوں ممالک نے سیاسی، اقتصادی، دفاعی اور ثقافتی شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسے مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے اسلام آباد میں کنگ حمد یونیورسٹی کے قیام کے لیے بحرین کے تعاون پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستان تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے جی سی سی آزاد تجارتی معاہدے کے ساتھ دوطرفہ تجارت بڑھانے کی بھی خواہش ظاہر کی اور بحرینی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے کی دعوت دی۔
وزیراعظم نے بحرین میں مقیم ڈیڑھ لاکھ پاکستانیوں کی بہترین میزبانی پر بھی بحرینی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ ساتھ ہی پاکستانی قیدیوں کی رہائی اور واپسی کے فیصلے پر خصوصی تشکر کا اظہار کیا۔
دونوں رہنماؤں نے دفاعی شراکت داری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے تکنیکی تربیت، لاجسٹکس، افرادی قوت اور دفاعی پیداوار کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔ اس کے علاوہ غزہ کی صورتحال پر بھی گفتگو ہوئی اور خطے میں امن و استحکام کو انتہائی ضروری قرار دیا گیا۔
