اسلام آباد/ دبئی:پاکستانی شہریوں کے لیےمتحدہ عرب امارات میں ویزا پابندیوں کی خبروں کی سرکاری سطح پر تردید کر دی گئی ہے۔ ڈان نیوز کے مطابق یو اے ای کے ایک اعلیٰ سفارتکار نے واضح کیا ہے کہ امارات نے پاکستان کے لیے کسی قسم کی ویزا پابندی عائد نہیں کی، اور لیبر، ورک، وزٹ اور دیگر تمام کیٹیگریز میں معمول کے مطابق ویزوں کا اجرا جاری ہے۔
سفارتکار کے مطابق اماراتی حکومت نے تمام ممالک کے لیے ایک مربوط اور شفاف ویزا نظام تشکیل دیا ہے، تاہم چند پاکستانی ٹریول ایجنٹس کی جانب سے ریکارڈ میں ٹیمپرنگ کے واقعات سامنے آنے کے باعث بعض تکنیکی مسائل پیدا ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ریکارڈ میں جعل سازی نہ صرف اماراتی حکام کے لیے بلکہ ویزا ہولڈرز کے لیے بھی مشکلات کا باعث بنی۔
یو اے ای حکام کی جانب سے اس ٹیمپرنگ سے متعلق حکومتِ پاکستان کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے، جس کے بعد شفافیت اور سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے نیا بائیو میٹرک سسٹم متعارف کرا دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد غلط معلومات کی روک تھام اور ویزا پراسیسنگ کو مزید موثر بنانا ہے۔
سفارتکار نے مزید بتایا کہ اس وقت 22 لاکھ 70 ہزار پاکستانی متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں، جو ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ معمولی نوعیت کے قانونی مسائل میں ملوث پاکستانیوں کو بھی اپنے ریکارڈ کی درستگی کا موقع فراہم کیا گیا ہے تاکہ وہ دوبارہ منظم طریقے سے اپنی رہائش اور ملازمت جاری رکھ سکیں۔
دوسری جانب، حال ہی میں سینیٹ کی فنکشنل کمیٹی برائے انسانی حقوق کو بریفنگ دیتے ہوئے ایڈیشنل سیکریٹری داخلہ سلمان چوہدری نے بتایا تھا کہ یو اے ای پاکستانی شہریوں کو ویزوں کے اجرا میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ سعودی عرب اور یو اے ای پاکستانی پاسپورٹ پر پابندی کے قریب پہنچ گئے تھے لیکن سفارتی رابطوں کے باعث فیصلہ آخری لمحے میں روک لیا گیا۔
ان کے مطابق فی الحال یو اے ای نے صرف نیلے پاسپورٹ اور ڈپلومیٹک پاسپورٹ رکھنے والوں کو ویزوں کے اجرا کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔
پاکستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تاریخی سفارتی، عسکری، کاروباری اور ثقافتی تعلقات موجود ہیں، جب کہ یو اے ای نہ صرف پاکستان کا اہم تجارتی شراکت دار ہے بلکہ ترسیلات زر کا بھی بڑا ذریعہ ہے۔ لاکھوں پاکستانی وہاں ملازمت کے ذریعے قومی معیشت میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
