شام کے معزول صدربشارالاسد کی حکومت کے خاتمے کی پہلی برسی کے موقع پر شام کے متعددمحاذوں پر اسرائیلی حملوں کا سلسلہ شدت اختیار کر گیا۔شامی صدر احمد الشرع کی قیادت میں تنظیم تحریر الشام نے 27 نومبر 2024 کو اپنے مضبوط گڑھ ادلب (شمال مغربی شام) سے حملہ شروع کیا اور محض 12 دن کے اندر اسد خاندان کی پانچ دہائیوں پر محیط حکمرانی کا خاتمہ کر دیا۔
شامی میڈیا کے مطابق اسرائیلی فورسز نے جمعہ کو درعا کے دیہی علاقے حوض الیرموک میں دراندازی کی، جبکہ قنیطرہ کے دیہی علاقے الحمیدیہ میں شہریوں پر فائرنگ کی گئی۔ روسی خبر ایجنسی "تاس” کے حوالے سے شامی خبر رساں ایجنسی نے بتایا کہ اسرائیلی فوج نے جنوبی شام میں شام کی وحدت کے حق میں ہونے والی عوامی تقریب میں شریک شہریوں کو بھی نشانہ بنایا، تاہم اس حملے میں جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
خان ارنبہ قصبے میں اسرائیلی فوج نے ایک عوامی تقریب کے بعد شہریوں کو نصف گھنٹے تک اپنے گاؤں واپس جانے سے روکے رکھا۔ یہ مظاہرہ 8 دسمبر 2024 کو دمشق میں حکومت کی تبدیلی کا باعث بننے والے فوجی آپریشن کی پہلی برسی کے موقع پر کیا گیا تھا۔ جمعہ کی نماز کے بعد ہزاروں شامی ملک کے مرکزی چوکوں میں اسرائیلی جارحیت اور شام کی وحدت کے حق میں احتجاج کرنے کے لیے سڑکوں پر نکل آئے۔ مظاہرین نے ریف دمشق کی گورنری میں بیت جن قصبے پر اسرائیلی فضائی حملوں کی شدید مذمت کی، جس میں 13 افراد ہلاک ہوئے۔
جمعہ کی صبح سویرے بیت جن پر اسرائیلی بمباری کے دوران ایک گشتی دستہ قصبے میں داخل ہوا، جس کے نتیجے میں مقامی باشندوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ شامی ٹیلی ویژن کے مطابق اس کارروائی کے بعد تین نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا اور فوج نے قصبے کے کنارے باط الوردہ کی پہاڑی پر اپنی پوزیشن مستحکم کر لی، جس کے بعد کئی خاندان پڑوسی دیہات کی طرف نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔
اسرائیلی فوج نے بتایا کہ 210 ڈویژن کی قیادت میں ریزرو بریگیڈ 55 نے شبانہ روز بیت جن میں مطلوب افراد کی گرفتاری کے لیے آپریشن کیا، جس کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور دو افسران، ایک ریزرو اہلکار شدید زخمی جبکہ دیگر ہلکی چوٹیں آئیں۔ فوج کے مطابق آپریشن کے دوران متعدد مسلح افراد ہلاک یا گرفتار ہوئے۔
2025 کے دوران اسرائیل نے شام بھر میں بار بار حملے کیے ہیں، جن میں دمشق کے مضافات اور جنوبی شام کے اہداف شامل تھے۔ اسرائیل کا موقف ہے کہ یہ کارروائیاں سرحدی خطرات کے تدارک اور دروز کمیونٹی کے تحفظ کے لیے کی جا رہی ہیں، جبکہ شامی حکام اسے ملک کی خودمختاری اور امن کے لیے سنگین خطرہ قرار دے رہے ہیں۔
