شام اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خطے میں ایک نئی بے چینی کی لہر دوڑا دی ہے۔ شامی وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے اپنے ڈنمارکی ہم منصب لارس لوک راسموسن سے ملاقات میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بیت جن کے قصبے پر اسرائیلی حملوں کے بعد صورتحال کو قابو میں لانے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے، جسے انہوں نے کھلی اسرائیلی جارحیت قرار دیا۔
انہوں نے واضح کیا کہ نیا شام اپنے تمام شہریوں کی وطن واپسی چاہتا ہے اور 1974 کے امن معاہدے پر قائم ہے، مگر اسرائیلی حملے پورے خطے کو شدید عدم استحکام کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
ملاقات میں ڈنمارک نے شام کی تعمیرِ نو، ریاستی بحالی اور اداروں کی مضبوطی کے لیے اپنی حمایت بڑھانے کا اعلان کیا، یہاں تک کہ کئی ڈنمارکی کمپنیاں شام میں سرمایہ کاری کے لیے سرگرم دلچسپی ظاہر کر رہی ہیں۔
ادھر شامی وزیر اطلاعات حمزہ المصطفیٰ نے اسرائیلی حملوں کو نیتن یاہو کے ذاتی سیاسی عزائم سے جڑا اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’’8 دسمبر کے بعد مقبوضہ علاقوں سے مکمل انخلا کے بغیر کوئی امن ممکن نہیں‘‘۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اسرائیل شامی عوام کے عزم کو غلط سمجھ رہا ہے اور دمشق اپنی زمین کے ایک انچ سے بھی دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں۔ اس دوران جنوبی شام خصوصاً بیت جن اور قنیطرہ کے علاقوں میں اسرائیلی ڈرونز کی گشت اور زمینی پیش قدمی میں اضافہ ہو گیا ہے، جب کہ جمعے کے روز بیت جن میں حملے کے نتیجے میں 13 افراد ہلاک ہوئے۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق فائرنگ کا واقعہ کوئی پہلے سے تیار کردہ کمین گاہ نہیں تھا بلکہ مقامی شہریوں کا فوری ردعمل تھا، جبکہ تل ابیب کی جانب سے شامی صدر احمد الشرع کو سخت پیغامات بھیجے گئے ہیں کہ اسرائیل ان حساس علاقوں سے پیچھے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ سکیورٹی ذرائع کہتے ہیں کہ آنے والے دنوں میں اسرائیل زمینی کارروائیوں کے بجائے ہدفی فضائی حملوں کو ترجیح دے گا، جس سے خطے میں مزید تناؤ کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
