یمن کے شورش زدہ صوبے مأرب میں امریکی ڈرون کے ایک ہدفی حملے نے القاعدہ کی قیادت کو شدید دھچکا پہنچایا ہے، جہاں سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہفتے کی شام مشرقی مأرب کے الحصون علاقے میں ایک موٹر سائیکل کو نشانہ بنایا گیا جس پر القاعدہ کے دو انتہائی اہم ارکان سوار تھے۔
عینی شاہدین نے بتایا کہ حملہ اس قدر شدید تھا کہ دونوں افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے اور موٹر سائیکل مکمل طور پر جل کر تباہ ہو گئی۔ یہ واقعہ وادی ضلعہ میں اس وقت پیش آیا جب موٹر سائیکل شورش زدہ علاقے سے گزر رہی تھی۔
سیکیورٹی ذرائع اور شدت پسندی پر گہری نظر رکھنے والے یمنی تجزیہ نگار محمد بن فیصل نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ میں تصدیق کی کہ حملے میں ہلاک ہونے والوں میں القاعدہ کے عسکری ونگ کے سربراہ منیر بجلی الأہدَل، معروف بہ "ابو ہیجاء الحدیدی” بھی شامل ہیں، جو یمن میں تنظیم کے سب سے زیادہ فعال اور خطرناک جنگی کمانڈروں میں شمار ہوتے تھے۔
الأہدَل الابیضہ، إب، شبوہ، أبین اور لحج کے مختلف محاذوں پر القاعدہ کی جنگی سرگرمیوں کی قیادت کرتے رہے تھے اور کئی دہشت گردانہ حملوں میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔
حملے کے بعد منظر عام پر آنے والی تصاویر میں دونوں ہلاک افراد کو موٹر سائیکل پر سوار دکھایا گیا ہے، جسے عین امریکی فضائی کارروائی کے دوران نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹس کے مطابق "ابو ہیجاء الحدیدی” طویل عرصے سے یمن میں القاعدہ کی عسکری صلاحیتوں کو منظم کرنے، بھرتی بڑھانے اور مختلف محاذوں پر کارروائیاں کی منصوبہ بندی میں بنیادی حیثیت رکھتے تھے۔
اس واقعے پر نہ تو یمنی حکومت اور نہ ہی امریکا کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان جاری کیا گیا ہے، تاہم یہ حملہ حالیہ مہینوں میں القاعدہ کے خلاف امریکا کے ہدفی آپریشنز کے تسلسل کا حصہ ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے امریکی ڈرونز مأرب، شبوہ، أبین اور دیگر جنوبی و مشرقی صوبوں میں القاعدہ کے جنگجوؤں، فیلڈ کمانڈروں اور قیادت کو مسلسل نشانہ بناتے چلے آ رہے ہیں، جس کا مقصد یمن میں تنظیم کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کو کمزور کرنا ہے۔
