اسلام آباد میں پاکستان اور مصر کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی اعلیٰ سطح کی وفود ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو نئی جہت دینے، تجارتی روابط بڑھانے اور خطے کے اہم مسائل پر مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمد عبدالعاطی نے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اہم فیصلوں اور پیش رفت سے آگاہ کیا۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ دونوں ممالک نے بزنس ٹو بزنس تعاون کے فروغ پر جامع تبادلہ خیال کیا ہے، اور پاکستان مصر کو 500 بڑے بزنس ہاؤسز کی فہرست فراہم کرے گا، جس سے دوطرفہ سرمایہ کاری اور تجارت کے نئے امکانات کھلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں حکومتوں نے ویزہ شکایات کے خاتمے اور سہولت کاری کے لیے ایک نیا نظام تیار کر لیا ہے، جس کا مقصد عوامی روابط میں تیزی لانا ہے۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اور مصر کی دہائیوں پر محیط برادرانہ دوستی باہمی احترام، مذہبی رشتوں اور مشترکہ علاقائی وژن پر قائم ہے۔ انہوں نے غزہ کی موجودہ صورتحال پر مصر کے ثالثی کردار، انسانی امداد اور جنگ بندی کے لیے کوششوں کی بھرپور تعریف کی۔ اسحاق ڈار نے مزید بتایا کہ مصر نے پاکستانی طلبہ کے لیے الازہر یونیورسٹی اسکالرشپ ڈبل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو تعلیمی تعاون میں ایک بڑا قدم ہے۔
مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمد عبدالعاطی نے کہا کہ مصر غزہ کی تعمیر نو میں پاکستان کو کلیدی کردار دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ غزہ فائر بندی معاہدے میں پاکستان کا کردار “انتہائی اہم” رہا۔ انہوں نے واضح کیا کہ فلسطین کا دیرپا اور قابلِ عمل حل صرف دو ریاستی فارمولہ ہے۔
ڈاکٹر بدر نے کہا کہ مصر دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف اپنے کامیاب ماڈل کی پاکستان سے شیئرنگ پر آمادہ ہے، اور دونوں ممالک دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مصر پاکستان کی ہر بین الاقوامی فورم پر حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور مستقبل میں اس تعاون کو مزید گہرا کرنے کا خواہاں ہے۔
