نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ پاکستان غزہ میں مجوزہ انٹرنیشنل سٹیبلائزیشن فورس (ISF) میں شامل ہونے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس کو غیرمسلح کرنے کے کسی بھی منصوبے میں حصہ نہیں لے گا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے یہ فیصلہ فیلڈ مارشل سے مشاورت کے بعد کیا ہے اور پاکستان خطے کے امن، سکیورٹی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے پر یقین رکھتا ہے۔
عرب نیوز کے مطابق ISF امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس منصوبے کا حصہ ہے جس کا اعلان 29 ستمبر کو کیا گیا تھا۔ اس فورس میں مسلم ممالک کے فوجی اہلکار شامل ہوں گے جو غزہ کی نگرانی، سکیورٹی اور عبوری انتظامات سنبھالیں گے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اس منصوبے کی منظوری پہلے ہی دے چکی ہے، اور صدر ٹرمپ اس عبوری اتھارٹی کے سربراہ ہوں گے۔
پاکستان ان 13 ممالک میں شامل تھا جنہوں نے سلامتی کونسل میں پیش ہونے والی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا۔ پاکستان کے مندوب نے ووٹنگ کے دوران اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کرتے ہوئے فلسطینی عوام کی خودمختاری کی مضبوط حمایت بھی دہرائی۔
تاہم اسحاق ڈار نے زور دے کر کہا کہ پاکستان کا کردار امن، استحکام اور انسانی تحفظ تک محدود ہوگا۔ حماس کو غیرمسلح کرنا فلسطینی قانون نافذ کرنے والے اداروں کا معاملہ ہے، پاکستان اس میں ہرگز شریک نہیں ہوگا۔
رپورٹس کے مطابق حماس نے اس قرارداد کو پہلے ہی مسترد کر دیا ہے کیونکہ اس کے بعض نکات میں فلسطینی گروپوں کو غیرمسلح کرنے کا ذکر شامل تھا۔ اسی مؤقف پر انڈونیشیا نے بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے، باوجود اس کے کہ جکارتہ حکومت نے ISF کے لیے 20 ہزار اہلکار دینے کی پیشکش کی تھی۔
اسحاق ڈار نے انکشاف کیا کہ امریکہ میں ISF سے متعلق ہونے والی ابتدائی مشاورت میں پاکستان بھی شامل تھا، اور وہاں بھی کئی مسلم ممالک نے اس منصوبے کے چند حساس پہلوؤں پر سوالات اٹھائے تھے۔
انہوں نے کہا کہ ’’میری معلومات کے مطابق انڈونیشین وزیر خارجہ نے بھی غیررسمی طور پر حماس کو غیرمسلح کرنے کے معاملے پر تحفظات ظاہر کیے تھے۔
پاکستان کی جانب سے یہ موقف مسلم دنیا کے اندر ایک اہم اور منفرد پوزیشن کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں اسلام آباد امن فورس میں شمولیت کی حمایت کرتا ہے لیکن فلسطینی داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کا واضح اعلان بھی کرتا ہے۔
