مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید بے یقینی کی فضا میں سانس لے رہا ہے جہاں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تناؤ نئی سطح کو چھو رہا ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر کے ترجمان ہانی مرزوق نے العربیہ سے گفتگو میں کھلے الفاظ میں کہا کہ حزب اللہ نہ صرف جنگ کی سمت قدم بڑھا رہی ہے بلکہ لبنان کی ریاستی رٹ کو بھی کمزور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مرزوق کے مطابق تنظیم خفیہ سرنگوں کی تعمیر ازسرِنو شروع کر چکی ہے، اپنی عسکری تیاریوں کو بحال کر رہی ہے اور جنوبی لبنان میں ایسے مقامات پر دوبارہ سرگرم دکھائی دیتی ہے جنہیں 2024 کی سرحدی جھڑپوں کے دوران شدید نقصان پہنچا تھا۔
اسی بڑھتی کشیدگی کے درمیان اسرائیل نے امریکہ کے ذریعے بیروت کو غیر معمولی سخت پیغام پہنچایا ہےایک ایسا پیغام جس میں واضح کر دیا گیا ہے کہ اگر لبنان نے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے حوالے سے مؤثر عملی اقدامات نہ کیے تو اسرائیل نہ صرف حملوں کا سلسلہ جاری رکھے گا بلکہ اُن علاقوں کو بھی نشانہ بنائے گا جنہیں اب تک امریکی سفارتی دباؤ کے باعث محفوظ رکھا گیا تھا۔ اسرائیلی عسکری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حزب اللہ اپنی عسکری سرگرمیوں سے باز نہ آئی تو اسرائیلی کارروائیاں پوپ کی ممکنہ لبنان آمد کے بعد ایک بڑے آپریشن میں تبدیل ہو سکتی ہیں، جس کے خطے پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔
دوسری جانب حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے ہفتے کے خطاب میں نئی جنگ کے امکان کو مسترد نہیں کیا، البتہ انہوں نے کہا کہ جنگ نہ ہونے کا امکان بھی اتنا ہی موجود ہے جتنا شروع ہونے کا کیونکہ اسرائیل اور امریکہ دونوں اپنی حکمتِ عملی اور ممکنہ نتائج کا وزن کر رہے ہیں۔ انہوں نے جنگ بندی کے معاہدے پر عمل کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال کو قابو میں رکھنا دونوں فریقوں کے مفاد میں ہے، مگر مسلسل اسرائیلی حملے کسی بھی لمحے حالات کو بھڑکا سکتے ہیں۔
لبنان کے اندر سیاسی صورتِ حال بھی پیچیدہ ہو چکی ہے۔ حکومت نے گزشتہ برس حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ شروع کیا تھا اور لبنانی فوج نے متعدد سرنگیں، اسلحہ ذخائر اور خفیہ راستے اپنے قبضے میں لے بھی لیے ہیں، مگر حزب اللہ نے اس پالیسی کو سختی سے رد کر دیا ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ اقدامات ناکافی ہیں اور تنظیم ایک بار پھر اپنی عسکری قوت مجتمع کرنے کی رفتار بڑھا چکی ہے۔ جنوبی لبنان کے متعدد تزویراتی مقامات پہلے ہی اسرائیلی کنٹرول میں ہیں جنہیں مضبوط کیا جا رہا ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ سرحد پر نہ صرف چپقلش موجود ہے بلکہ امکانات کسی بڑے تصادم کی جانب اشارہ کر رہے ہیں۔
خطہ اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں ایک فیصلہ، ایک حملہ یا ایک غلطی پورے مشرقِ وسطیٰ کو نئی جنگ کی لپیٹ میں لے سکتی ہےاور سب کی نظریں آنے والے دنوں کی سفارتی چہل قدمیوں، عسکری نقل و حرکت اور لبنانی حکومت کے فیصلوں پر لگی ہوئی ہیں
