کویتی وزیر داخلہ اور نائبِ صدرِ وزراء شیخ فہد الیوسف نے منشیات کے جرائم کے خلاف ملک گیر سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ نیا قانون منشیات اور ذہنی اثر ڈالنے والے مادوں کی اسمگلنگ، تیاری، فروخت اور کاشت سے متعلق سزاؤں کو انتہائی سخت بنا دیتا ہے۔
ان کے مطابق منشیات کے سنگین جرائم پر اب سزائے موت اور عمر قید جیسی سخت ترین سزائیں دی جائیں گی، جبکہ اسمگلنگ یا تیاری میں ملوث افراد پر دو لاکھ کویتی دینار تک جرمانہ بھی عائد ہو سکے گا۔ یہ قانون سرکاری گزٹ میں شائع ہونے کے 14 دن بعد نافذ العمل ہو گا، جس کا مقصد متعلقہ اداروں کو مکمل تیاری کا وقت دینا ہے۔
وزیر داخلہ نے واضح کیا کہ وزارت کسی بھی جرم کے معاملے میں نرمی نہیں برتے گی، خاص طور پر ایسے جرائم جہاں معاشرتی امن و استحکام کو نقصان پہنچتا ہو۔ انہوں نے بتایا کہ حالیہ برسوں میں منشیات کی بہت بڑی مقداریں ضبط کی گئی ہیں، جس کے بعد حکومت نے سخت قانونی فریم ورک بنانے کا فیصلہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیا قانون منشیات کے خلاف جنگ میں ایک نئے اور فیصلہ کن مرحلے کا آغاز ثابت ہو گا، جس سے ملک میں جرائم پیشہ نیٹ ورکس دباؤ میں آئیں گے۔
قانون کے مطابق کچھ سنگین جرائم پر مزید سخت سزائیں رکھی گئی ہیں جن میں نابالغوں کو منشیات میں شامل کرنا، اسکولوں، جیلوں، عبادت گاہوں، بحالی مراکز اور تعلیمی اداروں میں ایسے جرائم کا ارتکاب، منشیات چھپا کر کسی بے گناہ کو پھنسانا، یا سرکاری عہدے کے غلط استعمال سے منشیات کو فروغ دینا شامل ہیں۔ ان تمام جرائم کو قانون کے تحت سنگین ترین جرم قرار دیا گیا ہے۔
نئے قانون میں طبی نسخوں کے غلط استعمال، ان کی غیرقانونی تیاری یا تقسیم پر بھی سخت سزائیں رکھی گئی ہیں۔ اسی طرح جیلوں، پولیس اسٹیشنز، عبادت گاہوں اور تعلیمی مقامات پر منشیات کے استعمال یا ترسیل پر بھی مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔ شیخ فہد الیوسف کے مطابق یہ قانون ریاست کی جانب سے منشیات کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کی واضح علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی ادارے پہلے سے زیادہ بااختیار ہوں گے اور اس نئے سزائی نظام کے ذریعے کویت میں منشیات کے خلاف سب سے مضبوط قانونی ڈھانچہ قائم کر دیا گیا ہے۔
