خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے سکریٹری جنرل جاسم البدیوی نے منامہ میں سپریم کونسل کے 46 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے زور دیا کہ خلیجی ممالک کی قسمت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور قطر کی سلامتی خلیجی دفاعی ڈھانچے کا جزو لا یتجزا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی ایک خلیجی ملک کی خود مختاری کو چیلنج کیا جائے تو یہ پورے خلیجی اتحاد کے لیے براہِ راست خطرہ تصور ہوگا۔
البدیوی نے دو حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کا ثبوت ہیں کہ خلیجی ممالک کو محض جغرافیائی قربت متحد نہیں کرتی بلکہ مشترکہ تقدیر، مشترکہ گھر اور مشترکہ دفاع وہ بنیادی ستون ہیں جو اتحاد کی بنیاد کو مضبوط کرتے ہیں۔ انہوں نے قطر کے خلاف “اسرائیلی جارحیت” کو سخت ترین الفاظ میں مسترد کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر ناقابل قبول حملہ اور قطری خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔
سکریٹری جنرل نے فلسطینی مسئلے پر خلیجی ممالک کے ٹھوس، اصولی اور غیر متزلزل مؤقف کو بھی دو ٹوک انداز میں دہرایا۔ انہوں نے کہا کہ جی سی سی کے نزدیک فلسطینی سرزمین سے قبضے کا خاتمہ اور 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، جس کا دارالحکومتی مشرقی بیت المقدس ہو، ناگزیر اور غیر تبدیل شدہ اصولی مؤقف ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خلیجی ممالک کی فلسطین سے وابستگی جذباتی نہیں بلکہ اخلاقی، اصولی اور تاریخی بنیادوں پر قائم ہےاور اس مؤقف میں کبھی تبدیلی نہیں آئے گی۔
ان کا کہنا تھا کہ خلیجی ممالک ہمیشہ خطے میں استحکام، امن اور انصاف کے قیام کے لیے یک زبان اور متحد رہے ہیں، اور مستقبل میں بھی یہ اتحاد کسی بھی بیرونی خطرے کے مقابلے میں ایک مضبوط دیوار کی طرح کھڑا رہے گا۔
