غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح میں مسلح گروہ کے متنازع سربراہ یاسر ابو شباب پر ایک مبینہ حملے میں ہلاکت نے خطے میں جاری طاقت کی کشمکش کو ایک نئی سمت دے دی ہے۔ ابو شباب، جو حماس مخالف قبائلی قوتوں میں نمایاں مقام رکھتے تھے، رفح کے مشرقی علاقے میں سرگرم ایک ایسی ملیشیا کی قیادت کر رہے تھے جو برسوں سے حماس کے خلاف مضبوط مزاحمت کا دعویٰ کرتی رہی ہے۔
اسرائیلی فوجی ذرائع نے جمعرات کو بتایا کہ ابو شباب ایک جھڑپ کے دوران اپنے ہی گروہ کے ایک شخص کی فائرنگ سے زخمی ہوا۔ اسے فوری طور پر جنوبی اسرائیل کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔ اسرائیلی فوجی ریڈیو کے مطابق ابتدائی تفتیش میں واقعہ کو ’’داخلی تنازع‘‘ کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تاہم فلسطینی اور علاقائی ذرائع اس بیانیے سے اختلاف کرتے ہیں۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز نے گھات لگا کر ابو شباب کو نشانہ بنایا، جبکہ کچھ اطلاعات کے مطابق فریقین میں جھڑپ کے دوران اسے ہلاک کیا گیا۔ اس تضاد نے اس کی موت کے گرد مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ایک اسرائیلی سکیورٹی اہلکار نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ ابو شباب کی ہلاکت سے متعلق رپورٹس کی ’’جامع تحقیقات‘‘ جاری ہیں۔ اسرائیل اس کمانڈر کو ایک ایسے عنصر کے طور پر دیکھتا تھا جس کے ذریعے وہ غزہ میں حماس کے اثر و رسوخ کو محدود کر سکتا تھا۔ متعدد اسرائیلی رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ تل ابیب ابو شباب کے گروہ کو عسکری سازوسامان اور مالی امداد فراہم کرتا رہا ہے۔
ابو شباب طویل عرصے سے حماس کے سخت مخالف سمجھے جاتے تھے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ حماس انسانی امداد کو ضبط کرکے بازاروں میں فروخت کرتی ہے اور باقی ماندہ سامان اپنے کارکنوں اور ان کے خاندانوں میں بانٹ دیتی ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ سے ایک پرانے انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ انہی مبینہ زیادتیوں کے خلاف ’’القوات الشعبیۃ‘‘ کے نام سے ایک متبادل گروہ تشکیل دیا گیا جس کے مقاصد محض عسکری نوعیت کے نہیں بلکہ اس میں سول اور سکیورٹی اداروں کی تشکیل بھی شامل ہے۔
ان کے ایک سابق اہلکار کے مطابق ابو شباب نے سیکڑوں جنگجوؤں کو کشش دلانے کے لیے قابلِ ذکر تنخواہیں مقرر کر رکھی تھیں اور حماس کے اثر کے مقابل ایک نیا طاقت محور بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔
اسرائیلی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ ابو شباب کی اچانک ہلاکت اسرائیل کے لیے ’’منفی پیش رفت‘‘ ہے، کیونکہ وہ غزہ کے جنوبی حصے میں حماس کے خلاف مقامی حمایت پیدا کرنے کے منصوبے کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا تھا۔ یہ علاقہ 10 اکتوبر کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد سے اسرائیلی کنٹرول میں ہے۔
ابو شباب کی پراسرار موت نہ صرف رفح میں مسلح گروہوں کے باہمی تنازعات کو اجاگر کرتی ہے بلکہ اس سے غزہ میں طاقت کے بدلتے ہوئے توازن کا بھی پتہ چلتا ہے، جہاں گزشتہ ماہ کے دوران داخلی اختلافات، خفیہ کارروائیاں اور زمینی لڑائیوں نے پہلے ہی صورتحال کو پیچیدہ بنا رکھا ہے۔
