قطر کے وزیراعظم شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے واضح کیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اسرائیلی افواج مکمل طور پر فلسطینی سرزمین سے نکل نہیں جاتیں اور عالمی امن منصوبے کے مطابق استحکام بحال نہیں ہو جاتا۔ دوحہ میں سالانہ سفارتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قطری وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ صورتِ حال نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، اور بین الاقوامی برادری کو لازمی طور پر اپنی کوششیں تیز کرنا ہوں گی تاکہ غزہ کے عوام کو حقیقی اور دیرپا امن میسر آ سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ امریکہ اور اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ امن منصوبہ صرف اسی وقت مؤثر ہو سکتا ہے جب اسرائیلی فوجی پسپائی اختیار کریں اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنائی جائے۔ ان کے مطابق مکمل جنگ بندی کا اعلان محض رسمی نہیں ہونا چاہیے بلکہ عملی اقدامات کے ساتھ مشروط ہونا ضروری ہے، خصوصاً ایسے اقدامات جن سے غزہ میں تباہ حال نظامِ زندگی دوبارہ بحال ہو سکے۔
شیخ محمد بن عبدالرحمان الثانی نے یہ بھی کہا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ضامن طاقتوں کو اپنا کردار بڑھانا ہوگا، کیونکہ موجودہ صورتحال عالمی ضمیر کا امتحان بن چکی ہے۔ قطر، ان کے مطابق، ثالثی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے مگر امن تک پہنچنے کا راستہ اسرائیلی انخلا سے مشروط ہے۔
انہوں نے دنیا کو خبردار کیا کہ غزہ کے عوام مزید تاخیر برداشت نہیں کر سکتے، اور عالمی قوتوں کو چاہیے کہ وہ فوری، ٹھوس اور مربوط اقدامات کرکے جنگ بندی کو عملی شکل دیں تاکہ خطے میں انسانی بحران کا خاتمہ ہو سکے۔
