غزہ: فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے پہلی بار کھلے الفاظ میں اس امکان کا اظہار کیا ہے کہ اگر اسرائیل حقیقی معنوں میں فلسطینی سرزمین سے اپنا قبضہ ختم کرے تو وہ مسلح مزاحمت کا باب بند کرنے اور اپنے ہتھیار فلسطینی اتھارٹی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بیان خطے کے موجودہ حالات میں ایک غیر معمولی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔
ترک میڈیا کے مطابق حماس کے سینئر رہنما خلیل الحیہ نے واضح کیا کہ تنظیم کے ہتھیار فلسطینی عوام کے دفاع اور اسرائیلی جارحیت کے ردِعمل سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر قبضہ ختم ہو جائے اور ایک قابلِ اعتماد سیاسی فریم ورک قائم ہو جائے تو یہ ہتھیار ریاستی کنٹرول میں دینے پر آمادگی موجود ہے۔
خلیل الحیہ نے امریکا کی حالیہ سفارتی کوششوں—خصوصاً ٹرمپ کی ثالثی—کا بھی اعتراف کیا اور بتایا کہ قیدیوں کے تبادلے کے عمل میں معنی خیز پیش رفت ہوئی ہے، جس کے بعد مستقبل میں جنگ نہ ہونے کی یقین دہانیاں بھی سامنے آئی ہیں۔
حماس رہنما نے مزید کہا کہ وہ اقوام متحدہ کی ایسی غیر جانبدار فورس کی تعیناتی قبول کرنے کو تیار ہیں جو غزہ اور سرحدی علاقوں میں بطور علیحدہ امن فورس نگرانی کرے، جنگ بندی کی سختی سے پاسداری کرائے اور کسی بھی خلاف ورزی پر فوری کارروائی کے اختیارات رکھتی ہو۔
ادھر دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ رک نہ سکا۔ تازہ ترین کارروائیوں میں قابض فوج نے مزید 7 فلسطینیوں کو شہید کر دیا ہے، جس کے باعث خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اسرائیلی افواج کی مسلسل کارروائیاں جنگ بندی کے ہر اصول کی کھلی دھجیاں اڑا رہی ہیں۔
خطے کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر حماس کا بیان عملی شکل اختیار کر لیتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں دہائیوں بعد بڑی سیاسی تبدیلی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے، تاہم اسرائیلی طرزِ عمل اس وقت اس سمت میں کوئی مثبت اشارہ نہیں دے رہا
