تل ابیب : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو بدعنوانی کے الزامات سے معاف کرنے کی درخواست اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے مسترد کر دی ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق، نیتن یاہو پر گزشتہ پانچ سال سے مختلف نوعیت کے بدعنوانی کے مقدمات زیر سماعت ہیں، جن میں رشوت، دھوکہ دہی اور اعتماد کی خلاف ورزی جیسے الزامات شامل ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اسرائیلی صدر کو لکھے گئے خط میں نیتن یاہو پر لگنے والے الزامات کو سیاسی اور غیر منصفانہ قرار دیا اور ان کی معافی کی درخواست کی تھی۔ ٹرمپ نے اس خط میں زور دیا کہ نیتن یاہو کی معافی سے اسرائیلی سیاست میں استحکام آئے گا اور اسرائیل-امریکہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
تاہم اسحاق ہرزوگ نے اپنی واضح اور مؤقف بھری ردعمل میں کہا، "میں صدر ٹرمپ کی رائے اور دوستی کا احترام کرتا ہوں، لیکن اسرائیل ایک خودمختار ملک ہے اور اس کے قانونی نظام کا مکمل احترام ہونا چاہیے۔ کسی بھی مقدمے میں سیاسی دباؤ یا غیر قانونی مداخلت قبول نہیں کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی عوام کی بھلائی اور انصاف کا تحفظ ان کی پہلی، دوسری اور تیسری ترجیح ہے۔
قانونی خودمختاری اور سیاسی دباؤ کا مسئلہ جاری ہے
ہرزوگ کے اس فیصلے کو اسرائیل میں قانونی خودمختاری کی حفاظت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق، صدر کی یہ پوزیشن ظاہر کرتی ہے کہ سیاسی اثرورسوخ کے باوجود عدلیہ اور قانونی نظام آزادانہ طور پر کام کرے گا۔ اسرائیلی میڈیا نے بھی اس اقدام کو عدلیہ کے وقار اور خودمختاری کی علامت قرار دیا ہے۔
نیتن یاہو اور ٹرمپ کے تعلقات گزشتہ برسوں میں قریبی رہے ہیں، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں امریکہ کی خارجہ پالیسی کے دوران۔ ٹرمپ کی حکومت نے اسرائیل کے لیے اہم اقدامات کیے، جن میں جولائی 2020 میں اسرائیل-امارات اور اسرائیل-بحرین تعلقات کی نارملائزیشن شامل تھی۔ ٹرمپ کی اس درخواست کو ایک سیاسی مداخلت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، جس میں امریکی صدر نے اسرائیل کی اندرونی عدالتی کارروائیوں میں اثر ڈالنے کی کوشش کی۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ہرزوگ کی پوزیشن اسرائیل میں عدلیہ کی آزادی کی علامت ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ سیاسی دباؤ کے باوجود قانونی عمل متاثر نہیں ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صدر کا یہ اقدام مستقبل میں ایسے کسی بھی غیر معمولی دباؤ کے لیے مثال قائم کرے گا۔
اس واقعے نے عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی ہے، کیونکہ امریکہ کے صدر کی درخواست اور اسرائیلی صدر کے موقف سے یہ واضح ہو گیا کہ دنیا کے سیاسی دباؤ کے باوجود بعض ممالک اپنے قانونی نظام کی خودمختاری کو مقدم رکھتے ہیں۔ نیتن یاہو کے مقدمات کے فیصلے کا انتظار اب عدالتی عمل کے مطابق ہوگا، اور یہ اسرائیلی سیاست میں ایک نئے باب کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
