شام میں اسد حکومت کے خاتمے کو ایک سال مکمل ہونے پر ایسے انکشافات سامنے آئے ہیں جنہوں نے پورے خطے کی سیاست کو ایک نئی بحث میں جھونک دیا ہے۔ سابق شامی فوجی افسران، سفارت کاروں اور زمینی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ بشارالاسد کے اقتدار کے آخری 72 گھنٹے مکمل افراتفری، دھوکے اور شدید خوف میں گزرےاور اس ہنگامہ خیز دور میں ایران نے خاموشی سے اپنے دیرینہ اتحادی کو تنہا چھوڑ دیا تھا۔
ایرانی قیادت کا حکم سب کچھ جلا دوہم جا رہے ہیں،سابق شامی افسر کے مطابق 5 دسمبر 2024 کی شام اسے اچانک ایک انتہائی ضروری حکم کے لیے دمشق میں ایرانی آپریشن بیس پر بلایا گیا۔اگلی صبح ایرانی کمانڈرحاج ابو ابراہیم نےبیس شامی افسران کوجمع کیا اورسب کے سامنے اعلان کیا،آج کے بعد شام میں ایرانی قدس فورس نہیں ہوگی،ہم جارہےہیں۔ اب آپ کی کوئی ذمہ داری ہم پر نہیں۔
کمرے میں سناٹا چھا گیا۔جن افسران نے سالہا سال ایرانی فورسز کے ساتھ لڑائیاں لڑی تھیں، اُن کے سامنے اچانک "تمام دستاویزات جلانے” اور "ہارڈ ڈرائیوز نکال کر تباہ کرنے” کا حکم آیا۔
ایرانی کمانڈر نے بتایا کہ ان کی شناختی دستاویزات بھی “چند دن بعد کہیں سے” بھیجی جائیں گی، اور وہ سب کو ایک ماہ کی تنخواہ دے کر خاموشی سے بیس چھوڑ گئے۔
صرف 72 گھنٹے بعد… اسد کا خاتمہ اور ملک سے فرارہوگئے،2 دن بعد، 8 دسمبر کی صبح دمشق میں اپوزیشن کے ڈرامائی حملوں نےوہ کام کردیا جسے ایک دہائی سے زیادہ جنگ بھی نہ کرسکی،شام میں اسد حکومت کا خاتمہ ہو گیا، اور بشارالاسد ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے۔
ایرانی سفارت خانے بھی ایک رات میں خالی ہو گئےدو سابق سفارت کاروں کے مطابق5 دسمبر کی شام دمشق میں ایرانی سفارت خانہ پوری طرح خالی کیا گیا،تمام ایرانی عملہ اور عہدیدار لبنان منتقل ہوگئے،شامی عملے کو صرف یہی کہا گیاگھر پر رہیں اور یہ تین ماہ کی تنخواہ لے لیں
ایرانی پاسپورٹ رکھنے والے شامی اہلکاروں کو خصوصی قافلوں میں راتوں رات باہر نکالا گیا،سرحدی اہلکاروں نے تصدیق کی کہ 48 گھنٹوں میں جدیدہ یابوس بارڈر پر 8 گھنٹے تک طویل قطاریں لگی رہیں،ایسی بھیڑ پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی تھی۔
حلب میں ایرانی اڈوں کا ٹوٹنا اور جنگجوؤں کا فرارہونااسداقتدارکےلئےبڑادھچکاتھاحلب کے جنوب میں قائم ایرانی آپریشن روم میں بھی صورتحال یکسربدل گئی۔کرنل محمد دیبو کے مطابق حلب کے سقوط کے بعد ایران نے مسلسل محاذچھوڑنے شروع کیے
اپوزیشن کےابتدائی حملوں میں ایرانی اورحزب اللہ کےکمانڈر مارے گئے،بعض اڈوں میں ایرانی افسران کی ذاتی فائلیں اور پاسپورٹ تک رہ گئے جو وہ وقت کی کمی کے باعث لے نہ سکے
اے ایف پی کے نامہ نگار نے خالی اڈوں میں حزب اللہ کے لوگوں، ایرانی جھنڈے، اور اسرائیلی پرچم پر تلوار کا خاکہ دیکھاجو وہاں سے جلد بازی میں انخلا کا ثبوت تھا۔4ہزار ایرانی جنگجو روسی اڈے سے نکالے گئےدیبو کے مطابق صرف حلب ہی نہیں بلکہ مجموعی طور پرتقریباً 4 ہزار ایرانی جنگجو حمییمیم اڈے سے روسی طیاروں کے ذریعے نکالے گئے
باقی کارواں عراق اور لبنان کی سرحدوں کی طرف فرار ہوا،حزب اللہ نے بھی 8 دسمبر کی صبح اعلان کیا کہ اس کے جنگجو حمص اور دمشق کے اطراف سے واپس بلائے گئے ہیں،ایران کا اثر و رسوخ ایک ہی ہفتے میں زمین بوس ہوگیاجس سےایک دہائی سے زیادہ شام میں پھیلا ہوا ایرانی اثر، اسلحہ کے بڑے ذخائر، تربیتی مراکز، انٹیلی جنس سیل اور مشترکہ اڈےچند دنوں میں خالی ہو گئے۔
2024 کے دوران اسرائیل کی جانب سے ہونے والے شدید فضائی حملوں نے بھی ایران کو یہ احساس دلایا تھا کہ دمشق میں رہ کر جنگ جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔
