ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہو گیا ہے کیونکہ ایرانی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل ابوالفضل شکارچی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنی میزائل، ڈرون اور دفاعی صلاحیتوں میں پیش رفت کر کے دشمن سے "پہل کا حق” چھین لیا ہے۔ ان کے اس بیان کو حالیہ 12 روزہ ایران–اسرائیل جنگ کی یاد دلاتے ہوئے خطے میں نئی کشیدگی کا سبب قرار دیا جا رہا ہے۔ فارس نیوز ایجنسی کے مطابق شکارچی نے کہا کہ ایران نے گزشتہ جنگ کے بعد اپنی میزائل طاقت بڑھانے کے منصوبے کو تیز رفتاری سے آگے بڑھایا اور اب وہ کسی بھی ممکنہ تصادم کے لیے پہلے سے کہیں زیادہ تیار ہے۔
جنرل شکارچی نے IRGC کی جانب سے منعقدہ خلائی نمائش کے دوران کہا کہ نمائش میں موجود تمام سازوسامان مکمل طور پر ملکی پیداوار ہے اور یہ ایرانی سائنسدانوں، فضائیہ اور وزارت دفاع کی مشترکہ محنت کا نتیجہ ہے، جس نے ملک کی دفاعی خودکفالت کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے اپنی کمزوریوں کی نشاندہی کے بعد انہیں دور کر لیا ہے اور اب وہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی ممکنہ تصادم کے لیے زیادہ مضبوط اور تیار ہے۔
اس کے مقابلے میں اسرائیل نے بھی ایران کی دفاعی سرگرمیوں پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اسرائیلی فوج کی ایک نمائندہ نے کنیسٹ کی خارجہ اور سیکیورٹی کمیٹی کو خفیہ بریفنگ میں بتایا کہ ایران حالیہ 12 روزہ جنگ کے اختتام کے صرف چھ ماہ بعد دوبارہ تیز رفتار بیلسٹک میزائل تیار کر رہا ہے۔ یہ دعویٰ اسرائیلی اخبار یدیعوت احرونوت نے رپورٹ کیا۔ یاد رہے کہ گزشتہ جون 2025 کی جنگ میں اسرائیل نے ایران کی میزائل اسٹوریج، پروڈکشن سائٹس اور متعدد ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا اور کئی اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور ایٹمی سائنسدانوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔
اسرائیل نے جنگ کے بعد تہران کو خبردار کیا تھا کہ وہ ایران کو اپنی فوجی اور ایٹمی صلاحیتیں دوبارہ حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور کسی بھی خطرے کا جواب دیا جائے گا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو بھی واضح کر چکے ہیں کہ ایران کے ساتھ تنازع ختم نہیں ہوا۔ مغربی سفارت کار اور سیکیورٹی مبصرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی دوبارہ کھلی جنگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے، اگر خطے میں سفارتی کوششیں نہ بڑھائی گئیں۔
اس طرح ایران اور اسرائیل کے درمیان دفاعی مقابلے اور طاقت کے مظاہرے سے مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال اور ممکنہ بحران کے امکانات بڑھ گئے ہیں، جس سے عالمی سطح پر بھی خطرے کے گھنٹیاں بجنے کا اندیشہ ہے۔
