مزاحمتی تنظیم حماس نے غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے کے دوران اپنے سینئر کمانڈر رائد سعد کی شہادت کی باضابطہ تصدیق کر دی ہے۔ عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے احکامات پر اسرائیلی فوج نے ایک روز قبل غزہ شہر میں ایک گاڑی کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 5 افراد شہید جبکہ 25 سے زائد زخمی ہو گئے۔ اسرائیلی حکام نے حملے کے فوراً بعد دعویٰ کیا تھا کہ اس کارروائی میں حماس کے ایک اعلیٰ کمانڈر کو ہلاک کر دیا گیا ہے، جس کی اب حماس نے تصدیق کر دی ہے۔
غزہ کی مقامی انتظامیہ کے مطابق 10 اکتوبر سے نافذ جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملے مسلسل جاری ہیں، جو معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے بعد سے اب تک تقریباً 800 حملے کیے جا چکے ہیں، جن کے نتیجے میں کم از کم 386 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل پر یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ غزہ میں انسانی امداد کی آزادانہ ترسیل میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے، حالانکہ جنگ بندی معاہدے میں امدادی سامان کی بلا رکاوٹ رسائی کو یقینی بنانے کی شق شامل ہے۔ امدادی اداروں کے مطابق خوراک، ادویات اور ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، جس سے انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے ایک قرارداد منظور کی تھی، جس میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ غزہ میں بلا رکاوٹ انسانی امداد کی اجازت دے، اقوام متحدہ کی تنصیبات پر حملے بند کرے اور بین الاقوامی انسانی قوانین کی مکمل پابندی کرے، تاہم زمینی حقائق اس قرارداد کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں
