اسرائیل کے وزیرِ خارجہ گیڈون سائر نے کہا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملے اور بمباری لبنان کی سرحدی خودمختاری کے خلاف نہیں بلکہ یہ کارروائیاں لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کے خلاف ہیں، جو درحقیقت لبنانی خودمختاری کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
انہوں نے یہ بات عرب ٹی وی چینل العربیہ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔ گیڈون سائر کے مطابق اسرائیل اور لبنان کے درمیان تنازعات محدود نوعیت کے ہیں اور انہیں باہمی گفت و شنید کے ذریعے آسانی سے حل کیا جا سکتا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل کے نزدیک لبنان کا اصل بحران سرحدی تنازعات نہیں بلکہ حزب اللہ کی موجودگی اور ایران کا اثر و رسوخ ہے، جو لبنان کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر کمزور کر رہا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسرائیل لبنان کے ساتھ امن اور تعلقات کو معمول پر لانا چاہتا ہے، تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل اپنی سلامتی کو یقینی بنائے۔ گیڈون سائر کے مطابق اسرائیل حزب اللہ کو ایک سنگین سیکیورٹی خطرہ سمجھتا ہے اور اس کا خاتمہ اسرائیل کی سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل یہ نہیں چاہتا کہ لبنان حزب اللہ کے زیر اثر رہے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ لبنان کا مستقبل لبنانی عوام کے ہاتھوں میں ہو، نہ کہ کسی مسلح تنظیم کے کنٹرول میں۔
شام کے حوالے سے ایک سوال پر گفتگو کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر خارجہ نے کہا کہ اسرائیل اور شام کے درمیان مستقبل میں سیکیورٹی معاہدہ ممکن ہے، جو دونوں ممالک کے مفاد میں ہوگا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل کے شام کی سرزمین پر قبضے کے کوئی عزائم نہیں ہیں۔
گیڈون سائر کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل واقعی شام کے علاقوں پر قبضہ کرنا چاہتا تو اب تک شام کا بڑا حصہ اس کے کنٹرول میں ہوتا، مگر ایسا کبھی اسرائیل کی پالیسی کا حصہ نہیں رہا۔
انہوں نے زور دیا کہ اسرائیل نہیں چاہتا کہ شام کی سرزمین کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا جائے، اسی لیے ممکنہ سیکیورٹی معاہدہ دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیلی وزیر خارجہ کے یہ بیانات خطے میں بدلتی ہوئی سیکیورٹی حکمتِ عملی، ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ اور مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن کی نئی تصویر پیش کرتے ہیں۔
