تل ابیب: اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایران کو شدید نتائج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران اپنی جوہری اور بیلسٹک میزائل صلاحیتوں کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جس پر اسرائیل خاموش نہیں بیٹھے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے ان سرگرمیوں کو آگے بڑھایا تو اس کے نتائج ’’انتہائی خوفناک‘‘ ہوں گے۔
امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ ایران ان مقامات پر اپنی جوہری تنصیبات دوبارہ تعمیر کرنے کی کوشش کر رہا ہے جہاں پہلے بمباری نہیں ہوئی تھی، جبکہ ساتھ ہی بیلسٹک میزائل بنانے کی صلاحیت کو بھی بحال کیا جا رہا ہے۔
اسرائیلی وزیر اعظم کے مطابق، دو ہفتے قبل انہیں ایسی فوجی مشقوں سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کی گئیں جن میں بیلسٹک میزائل داغنے کی مشقیں شامل تھیں۔ نیتن یاہو نے کہا کہ انہوں نے اس وقت بھی واضح الفاظ میں خبردار کیا تھا کہ ایسے اقدامات کے نتائج نہایت بھیانک ہوں گے۔
غزہ کی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے نیتن یاہو نے کہا کہ حماس نے غیر مسلح ہونے کا وعدہ کیا تھا، مگر اب بھی اس کے پاس تقریباً 60 ہزار بندوقیں موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی پٹی میں کسی نئی حکومت کی تشکیل اسی وقت ممکن ہو سکتی ہے جب حماس کا مکمل خاتمہ کیا جائے۔
جنگ بندی کے دوران غزہ میں اسرائیلی حملوں اور امریکی مؤقف سے متعلق سوال پر نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وہ مکمل طور پر ایک صفحے پر تھے۔ ان کے بقول، جنگ بندی کے باوجود ہونے والے اسرائیلی حملوں پر ٹرمپ کی جانب سے کسی قسم کی شکایت سامنے نہیں آئی۔
مغربی کنارے کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ کچھ نوجوان مسمار شدہ گھروں سے نکل کر زیتون کے درخت اکھاڑتے ہیں، جسے ان کے بقول مبالغہ آرائی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ ایسے واقعات کو روکنے کے لیے خصوصی اقدامات کر رہے ہیں، تاہم ان کے مطابق ان واقعات کا موازنہ آبادکاروں کے خلاف ہونے والے تقریباً ایک ہزار مبینہ ’’دہشت گردانہ حملوں‘‘ سے نہیں کیا جا سکتا۔
نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اسرائیل مغربی کنارے میں اپنے اور فلسطینیوں دونوں کے لیے انفراسٹرکچر تعمیر کرنا چاہتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ علاقے میں فوجی کنٹرول برقرار رکھنا ناگزیر ہے۔
