یمن کی موجودہ سیاسی صورتِ حال پر بات کرتے ہوئے صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے حالیہ فیصلوں کے پس منظر اور ان کے مقاصد کو ایک نئے زاویے سے واضح کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یمن میں اماراتی کردار سے متعلق جو انتظامی و عملی فیصلے کیے گئے ہیں، انہیں کسی صورت تعلقات کے خاتمے، ناراضی یا انکار کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق یہ فیصلے کسی اچانک ردِعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ حالات کے گہرے جائزے اور اتحاد کے مجموعی راستے کو درست رکھنے کی کوشش کا حصہ ہیں، تاکہ مشترکہ اہداف کو زیادہ مؤثر انداز میں آگے بڑھایا جا سکے۔
رشاد العلیمی نے اس بات پر زور دیا کہ یمنی قیادت علاقائی شراکت داریوں کی اہمیت سے پوری طرح آگاہ ہے، خصوصاً سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو وہ محض سفارتی سطح کا معاملہ نہیں بلکہ ایک اسٹریٹجک اثاثہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ تعاون کا تسلسل یمن کے قومی مفاد سے براہِ راست جڑا ہوا ہے، کیونکہ یہی شراکت داری یمنی ریاست کی بحالی، اداروں کے استحکام اور قومی ڈھانچے کی مضبوطی میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یمنی قیادت نہ صرف اس شراکت سے حاصل ہونے والے فوائد کو سمجھتی ہے بلکہ اس امر کا بھی ادراک رکھتی ہے کہ اگر اسے کمزور کیا گیا تو اس کے منفی اثرات کس حد تک نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حالیہ فیصلوں کو جذبات یا انتقام کی عینک سے دیکھنا درست نہیں۔ یہ اقدامات کسی فریق کے خلاف پیغام دینے یا کشیدگی بڑھانے کے لیے نہیں کیے گئے، بلکہ یہ وقت کے تقاضوں کے مطابق ایک منظم حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔ رشاد العلیمی کے مطابق یمن اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا ضروری ہے، کیونکہ معمولی غلطی بھی قومی جدوجہد کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ اسی لیے فیصلوں کا محور صرف اور صرف یمنی ریاست کی بحالی، بغاوت کے خاتمے اور قومی اداروں کو دوبارہ فعال بنانا ہے۔
انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یمنی قیادت کے سامنے مقصد بالکل واضح ہے اور وہ مقصد ہے ایک ایسی ریاست کا قیام جو قانون، آئین اور قومی اتفاقِ رائے پر مبنی ہو۔ اس مقصد کے حصول کے لیے اگر پُرامن راستہ میسر آیا تو اسے ترجیح دی جائے گی، لیکن اگر حالات نے اجازت نہ دی تو ریاست کے دفاع اور بقا کے لیے دیگر آپشنز بھی زیرِ غور رہیں گے۔ ان کے مطابق یہ کوئی تضاد نہیں بلکہ زمینی حقائق کی عکاسی ہے، کیونکہ بعض اوقات امن کی راہ خود طاقت کے توازن سے ہو کر گزرتی ہے۔
جنوبی یمن سے متعلق سوالات پر رشاد العلیمی نے ایک محتاط مگر واضح مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی مسئلہ ایک حساس قومی معاملہ ہے جسے نہ تو وقتی مفادات کے تحت استعمال کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی طاقت کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس مسئلے کا واحد قابلِ عمل حل ایک جامع قومی فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے ہی ممکن ہے، جہاں تمام فریق اپنے اختلافات کو سیاسی اور آئینی دائرے میں حل کرنے کے پابند ہوں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مسلح تصادم یا طاقت کا استعمال نہ صرف مسئلے کو مزید الجھائے گا بلکہ پورے ملک کے استحکام کو خطرے میں ڈال دے گا۔
رشاد العلیمی کا کہنا تھا کہ یمن پہلے ہی کئی محاذوں پر مشکلات کا شکار ہے، اس لیے کسی بھی ایسے اقدام سے اجتناب ضروری ہے جو نئی کشیدگی کو جنم دے۔ ان کے مطابق قومی صفوں کا اتحاد اس وقت سب سے بڑی ضرورت ہے، کیونکہ تقسیم اور انتشار ہی وہ عناصر ہیں جو ریاستی بحالی کی کوششوں کو کمزور کرتے ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مستقبل میں کیے جانے والے تمام فیصلے اسی اصول کے تحت ہوں گے کہ قومی وحدت کو نقصان نہ پہنچے اور اجتماعی مفاد کو انفرادی یا گروہی مفاد پر ترجیح دی جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یمنی قیادت اس بات پر متفق ہے کہ بغاوت کا خاتمہ اور ریاستی اداروں کی واپسی ایک طویل اور مشکل عمل ہے، جس کے لیے اندرونی ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی تعاون بھی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق جو بھی اقدامات کیے جائیں گے، ان کا مقصد کسی فریق کو الگ تھلگ کرنا نہیں بلکہ ایک مشترکہ قومی راستہ تشکیل دینا ہو گا، جس میں تمام وہ قوتیں شامل ہوں جو یمن کے مستقبل کو ایک مستحکم، خودمختار اور متحد ریاست کے طور پر دیکھنا چاہتی ہیں۔
رشاد العلیمی نے یہ بات دہراتے ہوئے کہا کہ یمن کے موجودہ فیصلے وقتی یا محدود دائرے میں نہیں بلکہ ایک وسیع تر وژن کا حصہ ہیں۔ یہ وژن قومی مفاہمت، ریاستی خودمختاری اور عوامی مفاد کے گرد گھومتا ہے۔ ان کے مطابق قیادت کی ذمہ داری صرف آج کے مسائل کا حل تلاش کرنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا راستہ چھوڑنا ہے جو امن، استحکام اور ترقی کی ضمانت دے سکے۔ اسی تناظر میں حالیہ فیصلوں کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ ان کا مقصد نہ تو تعلقات توڑنا ہے اور نہ ہی محاذ آرائی کو ہوا دینا، بلکہ ایک بکھری ہوئی ریاست کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کرنے کی سنجیدہ کوشش کرنا ہے۔
آخر میں انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یمن کا مستقبل قومی یکجہتی، ذمہ دارانہ شراکت داریوں اور دانشمندانہ فیصلوں سے ہی محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق قیادت اس راستے پر چلنے کے لیے پرعزم ہے، چاہے چیلنجز کتنے ہی پیچیدہ کیوں نہ ہوں، کیونکہ ریاست کی بحالی اور عوام کے تحفظ سے بڑھ کر کوئی مقصد نہیں۔
