اسرائیل میں سامنے آنے والا قطرگیٹ اسکینڈل اب محض ایک مالی یا سفارتی معاملہ نہیں رہا بلکہ اس نے پورے سیاسی نظام کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسرائیلی پولیس نے تحقیقات کو فیصلہ کن مرحلے میں داخل کرتے ہوئے اہم وزرا اور اعلیٰ سرکاری افسران کو طلب کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جس سے اقتدار کے ایوانوں میں کھلبلی مچ گئی ہے۔
اسرائیلی اخبار ہاریٹز کے مطابق تفتیش کار قطری حکومت کے لیے لابنگ کرنے والے امریکی تاجر جے فُوٹلِک کے ساتھ قائم تعلقات کی تہہ تک پہنچنا چاہتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ روابط تھے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ یہ تعلقات کس حد تک اثرانداز ہوئے، کن فیصلوں کو موڑا گیا اور کن دروازوں کے پیچھے کیا طے پایا؟
تحقیقات میں اس وقت نیا موڑ آیا جب جے فُوٹلِک سے متعلق شواہد اور معلومات کے حصول میں رکاوٹیں سامنے آئیں، جس کے بعد حکام نے براہِ راست سیاسی قیادت اور بیوروکریسی سے گواہیاں لینے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کے مطابق کئی اہم نام پہلی بار تفتیش کی زد میں آ رہے ہیں۔
تفتیش کار جاننا چاہتے ہیں کہ آیا یہ روابط محض سفارتی اور تجارتی نوعیت کے تھے یا ان کے ذریعے اسرائیلی پالیسی، خارجہ امور اور حساس قومی فیصلوں پر اثراندازی کی گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر الزامات درست ثابت ہوئے تو یہ اسکینڈل اسرائیل کی سیاسی تاریخ کے سب سے سنگین اثر و رسوخ کیسز میں شمار ہو سکتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق قطرگیٹ اسکینڈل نہ صرف اسرائیلی حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان بن چکا ہے بلکہ اس کے اثرات علاقائی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات تک پھیلنے کے امکانات بھی واضح ہوتے جا رہے ہیں۔
