اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے اسٹریٹجک عزائم کو ایک بار پھر کھلے الفاظ میں واضح کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل کسی بھی صورت ایران کو اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام کی بحالی کی اجازت نہیں دے گا۔ یہ سخت مؤقف انہوں نےگزشتہ روز اسرائیلی پارلیمنٹ کے اراکین سے خطاب کے دوران اختیار کیا۔
نیتن یاہو کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فلوریڈا میں ہونے والی حالیہ ملاقات کے محض چند دن بعد سامنے آیا ہے، جس سے یہ تاثر مزید گہرا ہو گیا ہے کہ واشنگٹن اور تل ابیب ایران کے معاملے پر ایک ہی صفحے پر ہیں۔
اسرائیلی وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں دعویٰ کیا کہ اسرائیل ایران کے بیلسٹک میزائل انفراسٹرکچر کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچا چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا ہم ایران کو اپنی میزائل صنعت دوبارہ کھڑی کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اگر ایران کی سرزمین سے اسرائیل پر کسی قسم کا حملہ ہوا تو اس کے نتائج انتہائی سنگین ہوں گے۔یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب اسرائیلی حکام اور میڈیا گزشتہ کئی ماہ سے ایران کے میزائل پروگرام کو اسرائیل کے لیے ایک بڑے خطرے کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ جون میں ہونے والی 12 روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کو نشانہ بنایا تھا۔ اس تنازع میں اسرائیل نے امریکہ کو بھی براہ راست شامل کیا، جس کا مقصد ایرانی جوہری صلاحیت کو مکمل طور پر ناکارہ بنانا بتایا گیا۔
اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے حالیہ بیان میں الزام عائد کیا تھا کہ ایران دوبارہ اپنے بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے کو بحال کرنے کی کوشش کر رہا ہے اور نئے جوہری مقامات کی تلاش میں ہے۔صدر ٹرمپ نے کہاایران کا رویہ درست نہیں۔ اگر اس نے دوبارہ ایسا کرنے کی کوشش کی تو ہمارے پاس اس کی تنصیبات کو ایک بار پھر تباہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہوگا، اور اس بار ہمارا ردعمل پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔
یہ بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی واضح عکاسی کرتے ہیں۔نیتن یاہو نے اپنے خطاب میں ایران کے اندر جاری احتجاجی مظاہروں کا بھی حوالہ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اس وقت ایک فیصلہ کن موڑ پر کھڑا ہے اور ممکن ہے کہ اسرائیل ایرانی عوام کے اس مرحلے میں ان کے ساتھ کھڑا ہو۔
واضح رہے کہ ایران میں احتجاج کی نئی لہر 28 دسمبر سے شروع ہوئی، جس کی قیادت تاجروں اور دکانداروں نے کی۔ مظاہرین ایرانی ریال کی تاریخی گراوٹ اور بے قابو مہنگائی کے خلاف سڑکوں پر نکلے ہیں، جس نے کاروباری طبقے کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ایران گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ اور یورپ کی سخت اقتصادی پابندیوں کی زد میں ہے۔ ان پابندیوں کے باعث ایرانی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے، جبکہ ریال اپنی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ نتیجتاً عوامی سطح پر بے چینی اور احتجاج میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اسرائیل ایرانی تاجروں اور عوام کے ساتھ کھڑا ہے جو آزادی اور انصاف کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہم ان کے جذبۂ آزادی کو سلام پیش کرتے ہیں۔یہ بیان خطے کی سیاست میں ایک نیا اور حساس موڑ تصور کیا جا رہا ہے
