بغداد: عراقی پارلیمنٹ نےگزشتہ روز ملک کی صدارت کے لیے 81 امیدواروں کی فہرست جاری کی ہے، جن میں چار خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ عہدہ عراقی سیاسی روایات کے مطابق ایک کرد شخصیت کے حصے میں آتا ہے اور عمومی طور پر بڑی حد تک اعزازی نوعیت کا حامل سمجھا جاتا ہے، تاہم اس کا اثر ملک کی اعلیٰ سیاسی قیادت کے عمل پر نمایاں رہتا ہے۔
2005 میں امریکی یلغار کے بعد رائج کرد، شیعہ اور سنی قیادت کے کوٹہ سسٹم کے تحت، وزیراعظم کا منصب سب سے طاقتور انتظامی عہدہ ہے اور یہ ایک شیعہ سیاست دان کے پاس رہتا ہے۔ پارلیمنٹ کا سپیکر ایک سنی ہوتا ہے اور صدر کا عہدہ ایک کرد رہنما کے پاس آتا ہے۔
کردستان میں سیاسی سرگرمیاں زیادہ تر دو بڑی جماعتوں کے درمیان ہوتی ہیں: کردستان ڈیموکریٹک پارٹی (KDP) جس کا گڑھ اربیل ہے، اور پیٹریاٹک یونین آف کردستان (PUK) جس کا مرکزی شہر سلیمانیہ ہے۔ پارلیمنٹ کی جاری کردہ فہرست میں KDP نے صدر کے لیے نگران حکومت کے وزیر خارجہ 76 سالہ فواد حسین اور اربیل کے سابق گورنر 63 سالہ نوزاد ہادی کو نامزد کیا ہے، جبکہ PUK نے اپنے امیدوار کے طور پر سابق وزیر ماحولیات 57 سالہ نزار آمیدی کو پیش کیا ہے۔
فہرست میں دیگر اہم امیدواروں میں موجودہ صدر 81 سالہ عبد اللطیف رشید، PUK کے سابق رہنما 71 سالہ ملا بختیار اور سابق صدر فواد معصوم کی صاحبزادی 56 سالہ جوان فواد معصوم بھی شامل ہیں۔
عراق میں سیاسی انتشار اور پیچیدگیوں کی وجہ سے اعلیٰ عہدوں کے لیے اتفاقِ رائے کا حصول اکثر طویل وقت لیتا ہے۔ نئی پارلیمنٹ کا پہلا اجلاس منتخب ہونے کے دو ماہ بعد 29 دسمبر کو ہوا، جس میں سپیکر اور پہلے ڈپٹی سپیکر کا انتخاب ہوا۔ تاہم اختلافات کی وجہ سے ووٹنگ کے دو راؤنڈ ناکام ہو گئے، اور دوسرے ڈپٹی سپیکر کا انتخاب بعد میں مکمل کیا گیا، جو سیاسی روایت کے مطابق ایک کرد ہونا ضروری ہے۔
آئین کے مطابق، پارلیمنٹ کے پہلے اجلاس کے بعد 30 دن کے اندر دو تہائی اکثریت سے صدر کا انتخاب کرنا لازمی ہے۔ منتخب صدر کو اپنے انتخاب کے 15 دن کے اندر وزیراعظم نامزد کرنا ہوتا ہے، جو سب سے بڑے پارلیمانی بلاک کا امیدوار ہوتا ہے اور انتظامی اختیارات کا حقیقی نمائندہ بنتا ہے۔ نامزد ہونے کے بعد وزیراعظم کو حکومت بنانے کے لیے 30 دن کی مہلت دی جاتی ہے۔
عراق کے سیاسی منظرنامے میں کرد جماعتوں کی مسابقت اور پارلیمانی اتفاق رائے کی تاخیر نے ہمیشہ سے اعلیٰ عہدوں کے لیے فیصلہ سازی کو پیچیدہ اور نازک بنا دیا ہے، جس کا اثر ملکی استحکام اور حکومتی کارکردگی پر پڑتا ہے۔
