یمن میں آئینی حکومت کی حمایت کرنے والے عرب اتحاد کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے انکشاف کیا ہے کہ اتحاد کی قیادت کو یمن کے باغی رہنما عیدروس الزبیدی کے عدن شہر سے اچانک اور خفیہ طور پر روانہ ہونے کے تمام حالات و واقعات سے متعلق مستند انٹیلی جنس معلومات حاصل ہو چکی ہیں۔ یہ وضاحت 7 جنوری 2026 کو جاری کردہ اتحاد کے بیان کے تسلسل میں سامنے آئی ہے، جس نے خطے میں نئی سیاسی اور عسکری بحث چھیڑ دی ہے۔
ترجمان کے مطابق دستیاب معلومات سے پتا چلتا ہے کہ عیدروس الزبیدی اور ان کے ہمراہ افراد 7 جنوری کی رات نصف شب کے بعد عدن کی بندرگاہ سے ایک بحری ذریعے کے ذریعے روانہ ہوئے۔ اس جہاز کا نام BAMEDHAF اور رجسٹریشن نمبر 8101393 – IMO تھا، جو عدن سے براہِ راست صومالی لینڈ کے علاقے کی جانب روانہ ہوا۔ حیران کن طور پر دورانِ سفر جہاز کا خودکار شناختی نظام (AIS) اور ٹریکنگ سسٹم مکمل طور پر بند رکھا گیا، جبکہ یہ بحری جہاز دوپہر تقریباً بارہ بجے بربرہ بندرگاہ پہنچا۔
میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ بربرہ پہنچنے کے بعد الزبیدی نے ایک افسر سے رابطہ کیا جس کا عرفی نام ابو سعید تھا، بعد ازاں اس کی شناخت اماراتی جوائنٹ آپریشنز کے کمانڈر میجر جنرل عوض سعید مصلح الاحبابی کے طور پر ہوئی۔ الزبیدی نے انہیں اپنی بحفاظت آمد کی اطلاع دی۔
ترجمان کے مطابق بربرہ ایئرپورٹ پر ایلیوشن IL-76 طیارہ، جس کا فلائٹ نمبر 9102 – MZB تھا، الزبیدی اور ان کے ہمراہ افراد کے انتظار میں موجود تھا۔ اماراتی افسران کی نگرانی میں تمام افراد کو طیارے میں سوار کیا گیا، تاہم طیارے کی حتمی منزل ظاہر نہیں کی گئی۔
یہ طیارہ سہ پہر 3 بج کر 15 منٹ پر موگادیشو ایئرپورٹ پر اترا، جہاں تقریباً ایک گھنٹہ قیام کے بعد 4 بج کر 17 منٹ پر دوبارہ بحر عرب کے راستے خلیج عرب کی سمت روانہ ہو گیا۔ المالکی نے بتایا کہ خلیج عمان کے اوپر پہنچنے پر طیارے کا شناختی نظام بند کر دیا گیا، جو لینڈنگ سے صرف دس منٹ قبل دوبارہ فعال کیا گیا۔ بالآخر یہ طیارہ مملکت کے وقت کے مطابق رات 8 بج کر 47 منٹ پر ابوظبی کے الریف فوجی ہوائی اڈے پر اترا۔
انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ اس طرز کے طیارے عموماً تنازعات والے علاقوں میں استعمال ہوتے ہیں اور ان کے سابقہ روٹس میں لیبیا، ایتھوپیا اور صومالیہ جیسے حساس ممالک شامل رہے ہیں۔
اتحاد کے ترجمان کے مطابق بحری ذریعے BAMEDHAF کے رجسٹریشن ریکارڈ کا جائزہ لینے سے معلوم ہوا ہے کہ یہ جہاز سینٹ کٹس اینڈ نیوس کے پرچم تلے رجسٹرڈ ہے۔ یہی پرچم اس جہاز گرین لینڈ پر بھی درج تھا، جس کا ذکر عرب اتحاد نے 30 دسمبر 2025 کے بیان میں کیا تھا۔ اس بیان میں فجیرہ بندرگاہ سے المکلا بندرگاہ تک جنگی گاڑیوں اور اسلحہ کی منتقلی کا انکشاف کیا گیا تھا، جس نے پہلے ہی خطے میں تشویش پیدا کر رکھی ہے۔
میجر جنرل ترکی المالکی نے تصدیق کی کہ اتحادی افواج اب بھی ان افراد کے انجام سے متعلق معلومات اکٹھی کر رہی ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ عدن سے روانگی سے قبل الزبیدی سے آخری ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے۔ ان شخصیات میں عدن کے سابق گورنر احمد حامد لملس اور عدن میں سیکیورٹی بیلٹس فورسز کے کمانڈر محسن الوالی شامل ہیں۔ ترجمان کے مطابق تاحال دونوں سے کوئی رابطہ قائم نہیں ہو سکا، جس نے صورتحال کو مزید پراسرار بنا دیا ہے۔
