شامی وزیرِ اطلاعات حمزہ المصطفیٰ نے واضح کیا ہے کہ اسرائیل کے شام کے مختلف علاقوں پر مسلسل قبضے کے باعث دمشق کا ابراہیمی معاہدے میں شامل ہونے کا فی الحال کوئی امکان نہیں ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق ایک انٹرویو میں شامی وزیرِ اطلاعات نے کہا کہ جب تک اسرائیل شام کے علاقوں، بالخصوص گولان کی پہاڑیوں پر قابض ہے، اس وقت تک اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے تعلقات معمول پر لانے یا ابراہیمی معاہدے میں شمولیت پر غور نہیں کیا جا سکتا۔
حمزہ المصطفیٰ نے کہا کہ یہ بیان شامی صدر کے حالیہ مؤقف کے تناظر میں دیا جا رہا ہے، جس میں صدر نے واضح کیا تھا کہ ایسے حساس معاملات پر مذاکرات کے لیے ابھی مناسب وقت نہیں آیا اور یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ شام مستقبل قریب میں اس معاہدے کا حصہ بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق شام اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں شامی صدر کے دورۂ واشنگٹن کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خواہش ظاہر کی تھی کہ شام بھی ابراہیمی معاہدے میں شامل ہو جائے۔ امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن خطے میں اسرائیل اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید وسعت دینے کا خواہاں ہے، تاہم شامی مؤقف نے واضح کر دیا ہے کہ اسرائیلی قبضہ اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق شام کا یہ سخت اور واضح مؤقف مشرقِ وسطیٰ میں جاری سفارتی صف بندی، فلسطینی مسئلے اور اسرائیل کے توسیع پسندانہ اقدامات کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، جبکہ یہ بیان عرب دنیا میں ابراہیمی معاہدے کے حوالے سے موجود اختلافات کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
